سپریم کورٹ نے جعلی ڈگریوں کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس میں بھرتی ہونے والے افسران کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت پنجاب کی جانب سے دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے والے پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کو روکنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کیس: لیگی رکن پنجاب اسمبلی نااہل قرار

بعدِ ازاں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر پنجاب حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

پنجاب کے ایڈشنل پروسیکیوٹر نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ محکمانہ کارروائی مجرمانہ کارروائی کے برابر نہیں ہے اسی لیے ملزمان کے خلاف دونوں قانونی کارروائیاں ایک ساتھ کی جاسکتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو حکم جاری کیا کہ اس معاملے ازسرِ نو تحقیقات کی جائیں اور اس کے نتائج کے مطابق ہی فیصلہ سنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: او جی ڈی سی ایل کے 170 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف

عدالتِ عظمیٰ نے اس جعلی ڈگری اسکینڈل میں ملوث پولیس افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا اور اس کے ساتھ ساتھ ضمانت پر رہا ہونے والے افسران کو بھی ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جج صاحبان اور گریڈ 17 یا اس سے زائد کے افسران کی دہری شہریت کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت اور تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار کو اس حوالے سے 15 روز کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کردی۔