اینٹی کارلفنٹنگ سیل (اے سی ایل سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں موٹرسائیکل چوری کرنے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ایسی واردتیں کرنے والے ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایس ایس پی سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ اے سی ایل سی عہدیداروں نے دو مشتبہ افراد صابر کھوکھر عرف کالا اور محمد اشرف کھوکھر کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ان کے گینگ نے شہر میں گزشتہ چند برسوں میں 2 ہزار کے قریب گاڑیاں چوری کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘موٹرسائیکل چوری کرنے والے اس گینگ کو کھوکھر گروپ کے طور پر جانا جاتا ہے’۔

ایس ایس پی سید اسد رضا نے کہا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ کراچی کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، ابتدائی طور پر ان کے بزرگ جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث تھے جس کےبعد ان کے بچے بھی اس میں شامل ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ ‘کھوکھر گروپ کے 25 سے 30 ارکان موٹرسائیکل چوری میں ملوث ہیں’۔

ایس ایس پی نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 برس میں اس گینگ نے 15 ہزار سے 20 ہزار موٹرسائیکلیں چوری کی ہیں جن کو مبینہ طورپر خضدار میں موجود جرائم پیشہ افراد کی مدد سے بلوچستان میں فروخت کیا گیا۔

اس گینگ نے موٹرسائیکلوں کی چوری کے علاوہ دیگرملزمان کی جانب سے چوری کی گئی موٹرسائیکلوں کو محفوظ جگہ بھی فراہم کی جس کے بدلے وہ فی موٹرسائیکل 4 ہزار سے 5 ہزار روپے وصول کرتے تھے۔

خیال رہے کہ یہ افراد ماضی میں بھی گرفتار ہوتے رہے ہیں تاہم عدالتوں سےضمانت پر رہا ہونے کے بعد جرائم پیشہ سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

ایس ایس پی اے سی ایل سی نے انکشاف کیا کہ مبینہ ملزمان چوری شدہ موٹر سائیکلوں کو بلوچستان پہنچانے کے لیے خواتین کی مدد بھی حاصل کر چکے تھے۔