اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان ملسم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف دائر العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی۔

سابق وزیرِاعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے لیے انتہائی سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچایا گیا۔

سماعت کے دوران جج محمد ارشد ملک نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ایک ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

احتساب عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کو درخواست دائر کی جائے گی جس میں استدعا کی جائے گی کہ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سپریم کورٹ کو اس حوالے سے خط لکھیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو 10 جولائی کو نیب ریفرنس مکمل کرنے کے لیے 6 ہفتوں کا وقت دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ‘نواز شریف نے ہل میٹل فیکٹری کا 80 فیصد منافع استعمال کیا‘

وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات خود برداشت کرتا تھا، نواز شریف

احتساب عدالت میں کیس کی سماعت ختم ہونے کے بعد جب نواز شریف کو واپس اڈیالہ جیل لے جایا جارہا تھا تو اس دوران انہوں نے میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات خود برداشت کرتے تھے، جس کے حوالے سے چیکس بھی موجود ہیں۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ سنا ہے عید آپ جیل سے باہر منائیں گے، جس پر انہوں نے کہا کہ ’اللہ آپ کی زبان مبارک کرے‘۔

جب نوازشریف کو احتساب عدالت لایا گیا تو اس دوران ان کے حامیوں کی جانب سے گل پاشی کی گئی جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے 2 افراد کو حراست میں لے لیا۔

16 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز کے حوالے سے آخری گواہ نے متعدد اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کردی تھیں۔

اس سے قبل 13 اگست کو العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوئی تھی جس میں اڈیالہ جیل میں قید مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزاکے بعد پہلی پرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 28 جولائی پاناما فیصلہ، ایک سال میں کیا سے کیا ہوگیا

اسی سماعت میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء، جبکہ نوازشریف کی جانب سے ایڈووکیٹ ظافر خان اور نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر افضل قریشی بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند ہونا تھا جس پر ایڈووکیٹ ظافر خان نے درخواست کی تھی کہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کے بجائے جراح کی جائے۔

جس پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے تھے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ ریفرنسز میں زیادہ تاخیر نہیں کرسکتے۔

یاد رہے کہ نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو پہلے ہی سزا سنا چکی ہے۔