عوام پر حکمرانی کوئی استحقاق نہیں بلکہ یہ ایک بھروسہ اور ایک ذمہ داری ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کا دور ممکنہ طور پر چیلنجز سے بھرپور رہے گا کیوں کہ ان کے پیشرو رہنماؤں کو بظاہر ملکی مفادات سے اپنے مفادات زیادہ عزیز تھے۔

19 اگست کو قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیرِ اعظم نے قوم کے سامنے اپنا فلاحی ریاست کا تصور پیش کیا، ایک مدینہ جیسی سیاست جس میں اقلیتوں سمیت ہر کسی کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ امید ہے کہ ان کا اشارہ اسکینڈے نیوین ممالک میں رائج فلاحی ریاست کے مغربی لبرل جمہوری ماڈل کی جدید تشریح کی جانب تھا۔ ان کے آئیڈیل اقبال ہیں جنہوں نے مذہب کی جدید، مغربی تشریح کی بنیاد پر ایک علیحدہ قوم کا تصور پیش کیا تھا۔ امید ہے کہ وہ جولائی کے انتخابات میں اپنی زبردست قوت کا مظاہرہ کرنے والے مذہبی دائیں بازو کی کھینچا تانی کے باوجود اپنے وژن پر قائم رہیں گے۔

رسول اللہ ﷺ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے حکمرانی کے اصول اور حکمران کی خوبیاں گنوائیں، یعنی جو شخص قانون کی بالادستی قائم کرے، عوامی عہدوں پر تعیناتی میں میرٹ کو فروغ دے، ہر کسی کے احتساب کو یقینی بنائے، اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچے۔ اور سب سے اہم یہ کہ وہ سچا اور قابلِ بھروسہ ہو۔ یہ ایک بہت اونچا معیار ہے جس پر پورا اترنے کے لیے جناح جیسے سیاستدان کی سی خوبیاں درکار ہیں۔ عمران خان ان کی ہی پیروی کرنے کی امید میں ہیں، چنانچہ خود سے وابستہ توقعات اور امیدیں بھی بڑھا رہے ہیں۔

پڑھیے: عمران خان بھی وفاداروں کو نوازیں گے، یہ امید ہرگز نہیں تھی

وفاقی کابینہ اور مشیروں کے انتخاب میں اب تک اشارے تو اسٹیٹسمین شپ کے بجائے سیاسی مجبوریوں کے نظر آ رہے ہیں۔ ہاں کچھ جگہوں پر میرٹ کے فروغ کی جھلک نظر آ رہی ہے مگر کچھ اسائنمنٹس اور قلمدانوں سے سمجھوتے اور مہم جوئی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مشیروں کے انتخاب سے گرگٹ کے رنگ بدلنے کی طرح پارٹیاں بدلنے والے چند افراد کو چھوڑ کر اصلاحات کی امیدیں بڑھی ہیں۔ مگر عمران خان کے اچھی حکمرانی کے وعدوں کا امتحان سول سرونٹس، اہم شعبوں، محکموں اور اداروں کے سربراہان کی تعیناتی میں ہوگا۔ وزیرِ اعظم کے سیکریٹری کے ان کے انتخاب سے امیدیں بڑھی ہیں کہ وہ کام چاہتے ہیں اور اداروں کی سربراہی کے لیے درست بندے چنیں گے۔

مرکزی چیلنجز معیشت، سیکیورٹی، انصاف، اور قانون کی بالادستی ہیں۔ جہاں انہوں نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک قابل اور اہل وزیرِ خزانہ اور مشیرِ خزانہ کا انتخاب کیا ہے، مگر ان کے حکمرانی کا معیار جلد ہی قومی سلامتی اور انصاف کی فراہمی جیسے شعبوں میں سامنے آ جائے گا۔ دیکھتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) کے طور پر کسے چنتے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہے کہ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے قیام، کابینہ کے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی فعالی، اور ایک قابل ریٹائرڈ جنرل کی تعیناتی کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک جامع قومی سلامتی پالیسی دینے میں ناکام رہی۔ یہ موجودہ حکمرانوں کی ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ ایک قومی سلامتی پالیسی پر غور کریں جس میں قومی طاقت کے تمام عناصر میز پر موجود ہوں۔

امید ہے کہ وزیرِ اعظم ایک تجربہ کار ریٹائرڈ سفارت کار کو قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر تعینات کریں گے، قابلِ ترجیح ایسا شخص ہوگا جو خارجہ سیکریٹری یا پھر چین اور ہندوستان میں ہمارا سفیر رہ چکا ہو۔

قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کے تناظر میں حقیقی امتحان اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری میں ہوگا۔ یہ دیکھ کر کافی خوشی ہوئی کہ وزیرِ اعظم نے ایک پروفیشنلی اہل، سینیئر پولیس افسر کو ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجینس بیورو کے طور پر تعینات کیا ہے کیوں کہ یہ پولیس سروس آف پاکستان کے کیڈر کا عہدہ ہے۔ اس حوالے سے خدشات تھے کہ افواجِ پاکستان سے کسی شخص کو اس اہم سویلین انٹیلیجینس ادارے کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پچھلے وقتوں میں سروس کیڈر قواعد کی خلاف ورزیوں سے بچا جائے گا، جس طرح یہ تعیناتی ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ وزیرِ اعظم قومی سلامتی کے اندرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے سویلین اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

پڑھیے: نئی حکومت کے لیے منتظر کانٹوں کا تاج

اگلی اہم تعیناتی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کی ہے۔ چوں کہ میں اس عہدے پر تعینات رہ چکا ہوں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کرپشن، مالیاتی جرائم، منی لانڈرنگ، دہشتگردوں کی مالی معاونت، اور بین الاقوامی اثرات رکھنے والے جرائم کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کو مکمل طور پر غیر سیاسی بنا کر ایک انتہائی پروفیشنل ادارہ بنانا ہوگا۔ بہترین اہلیت اور بے داغ ساکھ رکھنے والے کسی پولیس افسر کا انتخاب کرنے کے بعد وزیرِ اعظم کو ڈی جی کو کھلا ہاتھ دینا ہوگا تاکہ وہ ان پیچیدہ مقدمات کی تفتیش اور انکوائری کر سکیں جن میں انٹرپول کے ساتھ شراکت کی ضرورت ہو گی۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے وزارتِ داخلہ اپنے پاس رکھی ہے تاکہ وہ کرپٹ لوگوں کے احتساب پر نظر رکھ سکیں، بیرونِ ملک جمع شدہ لوٹی گئی دولت واپس لائیں، اور منی لانڈرنگ کے خلاف مہم جاری رکھ سکیں۔ ویسے تو یہ قابلِ تعریف مقاصد ہیں مگر مجھے امید ہے کہ وہ ادارے کے روز مرہ کے معمولات اور اس کے تحقیقاتی مراحل میں الجھ نہیں جائیں گے۔ ان کے بارے میں یہ تاثر تک بھی نہیں ابھرنا چاہیے کیوں کہ کوئی بھی، یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی جرائم کی تحقیقات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

اگلی اہم تعیناتی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی ہے۔ عمران خان نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور ساتھ ساتھ انسدادِ دہشتگردی اور انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی کے لیے ایک قابل سینیئر پولیس افسر کو چنا ہے۔ نیکٹا کو قانون کے تحت وزیرِ اعظم کے ماتحت ہونا چاہیے۔ پچھلی دو حکومتوں نے اسے وزارتِ داخلہ کے ماتحت رکھا ہوا تھا۔ آئی بی اور آئی ایس آئی کی طرح نیکٹا کو بھی وزیرِ اعظم کو رپورٹ کرنا چاہیے۔ اس کے سربراہ کو قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگز میں شامل کیا جانا چاہیے۔

عمران خان نے درست طور پر فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات کا ذکر کیا ہے۔ یہ وزارتِ داخلہ کا مینڈیٹ ہے جس کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں۔ چنانچہ نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی اہم ہو گی۔ ایک سینیئر پولیس افسر کو نظامِ انصاف میں تبدیلی لانے کے لیے اس بیورو کی سربراہی کرنی ہے۔ امید ہے کہ پولیس آرڈر 2002ء کو فوری طور پر اسلام آباد میں نافذ کیا جائے گا۔ قانون کے تحت اسے دارالحکومت میں بلدیاتی حکومتیں متعارف کروانے کے ساتھ ہی نافذ کیا جانا تھا۔ اس کے ہونے سے امید ہے کہ نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کے ادارے اور ایک آزاد پولیس کمپلینٹ اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔

آخر میں یہ کہ وزیرِ اعظم کو بہترین آئی جیز کو صوبائی پولیس محکموں کی سربراہی کے لیے چننا چاہیے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپنی نیت واضح کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ پولیس کے سابق آئی جی کو مشیر کے طور پر تعینات کیا جنہوں نے ادارے کو غیر سیاسی بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امید ہے کہ پولیس میں اصلاحات لائی جائیں گی، نہ صرف پنجاب میں، بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی۔

ہمیں امید ہے کہ وزیرِ اعظم کی 26 جولائی کی ریاستی سربراہ جیسی تقریر اور 19 اگست کا خطاب اچھی حکمرانی کے فریم ورک کی شکل اختیار کرے گا۔ قسمت ان کا ساتھ دے!

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 ستمبر 2018ء کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔