اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے حلقہ پی کے 23 شانگلہ پر انتخابی عذرداری کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شوکت یوسفزئی کی درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات میں پی کے 23 سے پی ٹی آئی کے شوکت یوسفزئی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شانگلہ: پی کے 23 کے انتخابات کالعدم قرار، دوبارہ پولنگ کا حکم

تاہم خواتین ووٹرز کے کم ٹرن آؤٹ کے باعث حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق الیکشن کمیشن کو اس حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینا ہوتا ہے، جہاں ڈالے گئے کُل ووٹوں میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم ہو۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 پر انتخابی عمل کالعدم قرار دے کر 10 ستمبر کو دوبارہ انتخابات کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزیدپڑھیں: ’خواتین کی 10 فیصد لازمی ووٹنگ کی مخالفت‘

تحریک انصاف کے شوکت یوسفزئی کے وکیل نے خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے سے متعلق شق کو چیلنج کردیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کردیے۔

شوکت یوسف زئی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو 'ظالمانہ' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'الیکشن کمیشن کو پورے حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے بجائے چاہیے تھا کہ وہ صرف خواتین کی دوبارہ پولنگ کروائے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'شانگلہ کے علاقے میں انتخابات کرانا آسان نہیں، جبکہ حلقے میں دوبارہ انتخاب سے ہمیں نقصان ہوگا۔'

مزید پڑھیں: پی کے 23 شانگلہ میں 10 ستمبر کو دوبارہ انتخاب کا حکم

واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی ف) اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے انتخابات میں خواتین کے 10 فیصد لازمی ووٹ کے معاملے پر اعتراض اٹھایا تھا اور انتخابات میں خواتین کی 5 فیصد لازمی ووٹنگ کا مطالبہ کیا تھا۔