سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی رقم منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جاری ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹیڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں پر منی لانڈرنگ کا کیس بنتا ہے،چیف جسٹس

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان قریشی کو عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کردیا۔

جے آئی ٹی کے دیگر اراکین میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر شاہد پرویز، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے محمد افضل، نیب اسلام آباد کے ڈائریکٹر نعمان اسلم، اسٹیٹ بینک کے ماجد حسین اور ٹیکس کمیشن کے عمران لطیف منہاس شامل ہیں۔

جی آئی ٹی اور اس کے اراکین کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے کے اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحقیقات سے متعلق کوئی بھی بات میڈیا کو فراہم نہ کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ رینجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جے آئی ٹی کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرے کیونکہ ڈی جی ایف آئی اے نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے تحت وہ درج ذیل کام سر انجام دے گی۔

  • جے آئی ٹی کسی مناسب مقام پر اپنا سیکریٹریٹ قائم کرے گی۔

  • جے آئی ٹی کو انکوائری اور اور تفتیش کے حوالے سے تمام تر اختیارات حاصل ہوں گے جن میں کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1908، قومی احتساب آرڈیننس 1999، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ 1974 اور اینٹی کرپشن قانون جیسے دیگر قوانین کے تحت اختیارات شامل ہیں۔

  • ملک کے تمام اعلیٰ حکام اور ادارے مکمل تعاون کریں گے اور ضرورت پڑنے پر جے آئی ٹی کے کام میں مکمل معاونت کریں گے۔

  • جے آئی ٹی کی رپورٹ کا عدالت ہر 15دن بعد معائنہ کرے گی جو ایک بند لفافے میں جمع کرائی جائے گی البتہ انویسٹی گیشن ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے وہ وقتاً فوقتاً اپنی پیشرفت سے آگاہ کرتی رہے۔

  • جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کسی بھی ایسے ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں جو ان کے خیال میں تفتیش کی موثر اور بروقت تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • جے آئی ٹی کی پہلی رپورٹ آج سے 15دن بعد جمع کرائی جائے گی۔

عدالت نے فی الحال یہ تفتیش اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی لیکن اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس درخواست پر دوبارہ غور کی گنجائش موجود ہے۔

اس کیس کی آئندہ سماعت سپریم کورٹ میں 24 ستمبر کو ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت منظور

عدالتی حکم کے مطابق جے آئی ٹی کے قیام کی وجہ مقدمے کی کمزوری اور سست رفتاری کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات سامنے آنا بھی تھیں کہ تفتیش میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ مہارت نہ ہونے کے سبب تفتیش کا عمل سست روی کا شکار ہے جبکہ مبینہ طور پر مقدمے میں ملوث اعلیٰ شخصیات اور سیاسی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے تفتیش کی راہ میں روڑے بھی ڈالے جا رہے ہیں۔

ایف آئی اے نے اربوں روپے منی لانڈرنگ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں زرداری گروپ سے منسلک مزید 2 کمپنیوں کی شناخت کا دعویٰ کیا تھا جن کے نام ایم ایس لینڈ مارک اور نیشنل گیسز پوائیویٹ لمیٹیڈ بتائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: ملک ریاض کے داماد نے عبوری ضمانت حاصل کرلی

فیڈریل انویسٹی گیشن ایجنسی نے کہا تھا کہ انہیں گزشتہ ہفتے اومنی گروپ کی زیر ملکیت کھوسکی شوگر مل پر مارے گئے چھاپے کے دوران قبضے میں لی گئی ہارڈ ڈسک سے ان 2 کمپنیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں تھی، اس شوگر مل کے مالک زرداری کے قریبی دوست انور مجید ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔

حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔

ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری اور فریال تالپور مفرور قرار

جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں۔

جس کے بعد نگراں حکومت کی جانب سے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

بعدازاں فریال تالپور نے لاڑکانہ میں سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔