کراچی: بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی 4 ستمبر تک کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 20 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی، جس کی مدت 2 ستمبر تک تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری، فریال تالپور ایف آئی اے کے سامنے پیش

یاد رہے کہ اس سلسلے میں مقدمے کی اہم سماعت ٹرائل کورٹ میں 4 ستمبر کو ہوگی جس میں آصف زرداری اور دیگر ملزمان پیش ہوں گے چناچہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے انہوں نے بینکنگ کورٹ میں درخواست کی تھی۔

بینکنگ کورٹ میں سابق صدر کی درخواست ضمانت پر سماعت آج (جمعہ) کو ہوئی اور ان کی آمد سے قبل ہی ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور دیگر رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان بھی حفاظتی ضمانت حاصل کرچکے ہیں جبکہ مرکزی ملزم حسین لوائی جوڈیشل ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کی حفاظتی ضمانت منظور

سابق صدر کی عدالت آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات دیکھنے میں آئے، پولیس نے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے عدالت کے اطراف کی تلاشی لی۔

بعد ازاں سیکیورٹی اداروں کی کلیئرنس کے بعد سابق صدر سخت حفاظتی حصار میں کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔

آصف زرداری کی صحافیوں سے گفتگو

عدالت میں پیشی کے موقع پر صدارتی انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اعتزاز احسن ہی صدر بنیں گے.

جس پر صحافیوں نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو یقین ہے اعتزاز احسن صدر بن جائیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم کوشش کریں گے وہ ہی صدر بنیں۔

فاروق ایچ نائیک کی گفتگو

کیس کی سماعت کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں آصف علی زرداری کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیکٹا، ایف آئی اے کا منی لانڈرنگ کےخلاف مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ

بلکہ یہ کہا گیا کہ اے ون نامی بین لاقوامی کمپنی کی جانب سے زرداری گروپ کو ڈیڑھ کروڑ روپے منتقل کیے گئے جبکہ ایف آئی اے نے عبوری چارج شیٹ بنائی تو اس میں آصف علی زرداری کو مفرور قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا اس وقت آصف علی زرداری نوابشاہ سے الیکشن لڑ رہے تھے اور پورا پاکستان جانتا تھا کہ وہ نوابشاہ میں ہیں، تو ایف آئی اے نے انہیں کس طرح مفرور قرار دیا، اس سے ایف آئی اے کی بے ایمانی ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی آر کے مطابق بدعنوانی 2 اشخاص نے کی ہے اور اس کا آصف علی زرداری سے کوئی لینا دینا نہیں۔

منی لانڈرنگ کا معاملہ بینکنگ کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، نہ ہی ایف آئی آر نہ ہی چارج شیٹ پر لکھا ہے کہ آصف زرداری نے منی لانڈرنگ کی۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: ایف آئی اے کی جے آئی ٹی بنانے کی درخواست

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف ان کے موکل کو خوفزدہ کرنے، نشانہ بنانے اور بدنام کرنے کے لیے آصف زرداری کا نام اس کیس میں شامل کیا گیا۔

جب وہ صدر بنے تھے تو انہوں نے زرداری گروپ پی بی ٹی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا جس کے بعد انہوں نے اس کمپنی سے کوئی لین دین نہیں رکھا۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب اسے قبل کئی سال قید میں گزارے اور تمام تر مقدمات میں میرٹ اور شواہد کی بنا پر بریت حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود سابق صدر کو مقدمات میں ملوث کرنا صریح زیادتی ہے، اس سے عوام کو اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا اور اس قسم کی صورتحال سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔

منی لانڈرنگ کیس

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔

حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔

ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری اور فریال تالپور مفرور قرار

جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں۔

جس کے بعد نگراں حکومت کی جانب سے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

بعدازاں فریال تالپور نے لاڑکانہ میں سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔