عمران خان کے نام وزیرِاعظم ہاؤس کی بھینسوں کا خط

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2018

ای میل

محترم وزیراعظم عمران خان بھیں ںںںںںںںںںںںںںںں

بُرا مت مانیے گا، یہ ’بھیںںںں‘ دراصل ہمارا سلام اور ’آداب عرض‘ ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ بھئی یہ کیسا سلام ہے؟ کیا کریں، ہماری سلام دعا، حال احوال، اظہارِ محبت، اظہارِ ناپسندیدگی اور احتجاج سمیت ہر ضرورت کا اظہار اسی ’بھیںںںںں‘ کے ذریعے ہوتا ہے، ہم بھینسیں جو ہوئیں، اور ہاں، ہم کوئی عام بھینسیں نہیں، ایوانِ وزیراعظم میں قیام کے باعث ہمیں ’بھینسِ عظمیٰ‘ سمجھنا چاہیے۔ جی وہی جنہیں آپ نیلام کرنے چلے ہیں۔

خان صاحب! دیکھیں ایسا نہ کریں، ہم بھینسوں نے بھی ڈکرا ڈکرا کر تبدیلی کے لیے بہت دعا کی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ’ہم تو ہیں تو رے کھونٹے کی بھینسیں، ہانکو جدھر ہنک جائیں رے سخی بابُل مورے‘ مگر ہمیں یوں نیلام تو نہ کریں، بدنام تو نہ کریں۔

ایوانِ وزیرِ اعظم سے نکالنا ہی تھا تو کسی ’شریف بیل‘ سے بیاہ کر سر پر ہاتھ پھیر کر رخصت کردیتے، ہم مشرق کی بیٹیاں آنسو بہاتی گوبر گراتی چُپ چاپ پیا کے باڑے میں جابستیں مگر آپ تو ہماری بولی لگانے لگے۔ یہاں وضاحت کردیں کہ ’شریف بیل‘ سے ہمارا مطلب ہے وہ بیل جو شریف ہوں، وہ شریف نہیں جن کی مظلومیت کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ غلط فہمی کی بنا پر ہمیں مسلم لیگ (ن) کا نمک خوار سمجھ بیٹھیں اور نیلامی کے بجائے ہمیں قصائی کے حوالے کردیں۔

پڑھیے: گائے بھی منہ میں زبان رکھتی ہے

جناب وزیرِ اعظم! آپ شاید ہم بھینسوں کی تاریخی حیثیت سے ناواقف ہیں، اسی لیے ہمارا سودا کرنے پر تیار ہوگئے، اگر آپ حقیقت جان لیں تو ’شیرو‘ کی جگہ کوئی کالی چکنی بھینس آپ کے ساتھ ہو، آپ کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی جگالی کر رہی ہو، آپ علیٰ الصباح چہل قدمی پر نکلیں تو بھاری بھرکم بھینس قدم سے قدم ملائے آپ کے ساتھ چلے اور اس کی دُم تلوار کی طرح آپ کی حفاظت کرے۔

ہوسکتا ہے آپ اتنے متاثر ہوں کہ بھینس کو پاکستان کا قومی جانور قرار دے دیں، بلکہ مسلم لیگ (ن) کے شیر کے مقابل اپنا انتخابی نشان بھی بھینس کو بنالیں، پھر آپ کہہ سکیں گے کہ تمہارا شیر تو نہ انڈا دیتا ہے نہ بچہ، مگر ہماری بھینس تو بچے کے ساتھ دودھ بھی دیتی ہے۔

ویسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا ہم بھینسوں کا شیوہ نہیں، لیکن جب انسان طوطا چشمی کا مظاہرہ کریں تو کوئی بتلائے کہ پھر ہم کیا کریں۔ آپ نے فرہاد کا نام تو سُنا ہوگا، جس نے شیریں کی فرمائش پر پہاڑ سے دودھ کی نہر نکالی تھی، کوئی یہ نہیں بتاتا کہ وہ دودھ آیا کہاں سے تھا؟

اس نے ہم بھینسوں ہی سے ایک ایک بالٹی چندہ کرکے وہ نہر بہائی تھی، اور یہ آپ کا رانجھا بھینسوں کے تعاون ہی سے اپنا افیئر چلاسکا، اُلٹا ہم پر احسان کہ رانجھا بھینسیں چَراتا تھا، ہم کسرِنفسی سے کام لینے والی جانور ہیں خود ستائشی ہمارا چلن نہیں، اس لیے اپنی تاریخ لکھنے کی خاطر ہم نے ایک سنیئر اور ’صالح‘ صحافی سے رجوع کیا ہے، اس نے یقین دلایا ہے کہ وہ بڑے بڑے بادشاہوں کو ہاتھیوں گھوڑوں سے اُتار کر ہماری پیٹھ پر بٹھا دے گا اور کتنی ہی جنگوں میں کامیابی کا سہرا ہمارے سر باندھ دے گا۔

پڑھیے: باتوں کے بھوت اور ان کی اقسام

یہ سب ہم اس لیے کر رہی ہیں کہ دنیا مقامِ بھینس کو جان سکے اور ہماری قدر کرے۔ اب اپنی بے قدری کی طویل کہانی کیا سُنائیں، چلیے سنا ہی دیں، شاید آپ کے دل میں رحم آجائے اور آپ ہماری نیلامی کے فیصلے سے بھی یوٹرن لے کر ہماری دل پشوری کے لیے ایوانِ وزیراعظم کو قومی باڑا بنادیں۔

آپ اردو کے محاوروں ہی پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم بھینسوں سے کیا سلوک کیا گیا ہے۔

بھینس کے آگے بین بجانا

یہ محاورہ ایجاد کرکے اس معصوم جانور کو بے عقل اور ناسمجھ قرار دیا گیا۔ بھئی یہ تو آپ انسانوں کی حماقت ہے کہ بھینس کے آگے بین بجا کر توقع رکھتے ہیں کہ وہ سانپ کی طرح جھومنے لگے گی۔

ہم کوئی سانپ کی طرح فارغ تھوڑی ہیں، پھر ہمیں علامہ اقبال کا یہ پیغام ازبر ہے ’شمشیر وسناں اول، طاؤس ورباب آخر‘ کیوں کہ ہم امن پسند جانور ہیں اس لیے شمشمیر وسناں سے کبھی واسطہ نہیں رکھا، نہ ہی موئے گھوڑوں ہاتھیوں کی طرح ’پیشہ آبا‘ سپاہ گری رہا، یوں بھی ہمیں انسانوں کے لیے مسلسل دودھ اور گوبر کی فراہمی سے فرصت کہاں کہ شمشیر تھام کر جنگ آزما ہوجائیں یا رباب لے کر بجانے لگیں۔

اب اتنا مصروف جانور اپنے سارے کام چھوڑ کر بین پر نہ جھومے تو اسے احمق سمجھ لیا جائے! بہت خوب۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

یہ محاورہ کہہ کر ہمیں بیوروکریسی، پولیس، شیخ رشید اور عامر لیاقت کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ تو ہماری عاجزی وانکساری اور وفاشعاری ہے، اور تسلیم کرتی ہیں کہ ڈھٹائی بھی، کہ لاٹھیاں کھاکے بے مزہ نہ ہوئیں، ورنہ ہماری دُم کا ایک وار اچھے اچھوں کا دَم نکال سکتا ہے۔

یقین مانیے اگر ہماری وفا اور ڈھٹائی پر اعتبار کرکے آپ ہمیں تحریکِ انصاف کا کارکن بناتے تو ہم اب تک دھرنے پر بیٹھی ہوتیں اور گوبر کے ایسے پہاڑ کھڑے کرتیں کہ مسلم لیگ (ن) کے حکمران بدبو سے تنگ آکر الیکشن سے بہت پہلے ہی اقتدار چھوڑ چکے ہوتے۔

عقل بڑی یا بھینس

یہ محاورہ بھی ہماری توہین کے لیے بنایا گیا۔ آپ ہی بتائیں، ارسطو، سقراط، بقراط، آئنسٹائن، ڈارون، نیوٹن وغیرہ جیسے داناؤں میں سے کوئی دودھ دے سکتا تھا؟ کوئی اس قابل تھا کہ گوبر گیس کے لیے ’خام مال‘ مہیا کرسکے؟ تو بھیا، ’ہم بھینسوں کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو‘۔

ہم پر صرف یہی ستم نہیں ہوا ہمیں آپ کے شاعروں نے جس بُری طرح نظرانداز کیا وہ ظلم کی ایک الگ داستان ہے۔ کم بختوں نے اپنے محبوب میں ہرن سے لے کر مور اور کوئل تک ہر جانور کے اوصاف ڈھونڈ نکالے، بس ہمارا ہی کوئی وصف نظر نہ آیا، حالاں کہ سامنے کی بات تھی۔ کیا یوں نہیں کہا جاسکتا تھا:

اُس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز

گھورتے بھینس کو چاہت سے، گوالوں کی طرح‘


’ڈھونڈ تو بھینسوں کے باڑوں میں وفا کے موتی‘

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں


کس بھینس کے ہے دودھ کی لَسّی بنی ہوئی

چُھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی


’بھینس کی طرح ترا دھیرج سے آنا یاد ہے‘

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

اسی طرح شاعر حضرات محبوب کی زلفوں کی سیاہی کو بھینس کی رنگت سے تشبیہ دے سکتے تھے، ہماری آنکھوں کی معصومیت چشمِ جاناں میں دیکھی جاسکتی تھی، معشوق کی چُٹیا ہماری ہلتی ہوئی دُم کی مثال بن سکتی تھی، مگر نہیں صاحب، ہم میں کوئی گُن دکھائی ہی نہ دیے۔

پڑھیے: اَپر کلاس امیدواروں کے مڈل کلاس اثاثے

کم ازکم آپ تو ہم سے شاعروں والا سلوک نہ کریں، ایوانِ وزیراعظم کے مکین ہونے کے ناتے ہم آپ کے ’اہلِ خانہ‘ ہیں۔ ہمیں نیلام کرنے کے بجائے وزیرِاعلیٰ سندھ کے مشورے پر عمل کریں اور ہمارا دودھ بیچنا شروع کردیں، سندھ میں ایک نئی ٹیکنالوجی ایجاد ہوئی ہے جو کسی بھی مشروب کو ’شہد‘ میں تبدیل کردیتی ہے، اگر وزیراعلیٰ سندھ کے مشورے کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی بھی آپ کو دے دیں تو ہمارے دودھ کا شہد بھی بن سکتا ہے۔

خان صاحب! یاد رکھیں، وزیرِاعظم بننے کے بعد سے آپ ہمارے ہی دودھ کی چائے پی رہے ہیں، اگر آپ نے ہماری درخواست قبول نہ کی تو ہم آپ کو اپنا دودھ نہ بخشیں گی۔

من جانب

بھینسیں، مقیم ایوانِ وزیراعظم


نوٹ: یہ مزاحیہ تحریر ہے