گائے بھی منہ میں زبان رکھتی ہے

اپ ڈیٹ 09 اگست 2018

ای میل

رات کے سناٹے میں ہمارے دروازے پر بندھی پڑوسیوں کی گائے نے ’باں، باں‘ کرکے جب کوئی 10ویں یا 12ویں مرتبہ نیند کا بیڑا غرق کیا تو ہم تِلملا کر بستر سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ سونٹی پکڑی اور کٹ کَھنے بیل کی طرح دوڑتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے۔

سوچا تو یہ تھا کہ گائے کو 2 سونٹیاں جڑ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کریں گے لیکن پھر خیال آیا کہ ’گائے بندھی ہے تو کیا ہوا، پڑوسی تو کُھلے ہیں‘۔ لہٰذا ہم نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا اور غصّے اور بے بسی کے عالم میں گائے کو گھورنے لگے۔ ابھی ہم اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں بوٹی بوٹی کرکے کھا رہے تھے کہ اچانک ایک نسوانی آواز آئی، ’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں، کسی مونث کو تو چھوڑ دیا کریں‘۔

اکثر شادی شدہ حضرات کے اصرار کے باوجود ہمیں چڑیلوں پر یقین نہیں ورنہ رات کے سناٹے میں آنے والی یہ آواز ہماری روح کی قفس عنصری سے پرواز کے لیے کافی تھی۔ ہم نے حدود آرڈیننس کی حدود میں آنے والے ایک خیال کے تحت آواز کے ’منبع‘ کی تلاش میں چاروں طرف نظریں دوڑانا شروع کردیں۔

دور دور تک ہُو کا عالم، آدم نہ آدم ذات، ہم اور گائے بدذات۔ ’پھر یہ سریلی آواز کہاں سے آئی‘ ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ وہی جادو سا جگاتی ہوئی آواز دوبارہ سماعت سے ٹکرائی۔

’ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہیں، حیرت کیسی، ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں‘۔ اب جو ہم نے غور کیا تو پتا چلا کہ یہ گنگ و جمن میں دُھلی اردو ہمارے سامنے کھڑی گندگی میں لتھڑی گائے بول رہی ہے۔ ہم نے پوچھا بھئی آپ نے یہ طوطے کی طرح بولنا کیسے اور کہاں سے سیکھا‘۔

گائے: کافی عرصے ایک شاعر کے کھونٹے سے بندھی رہی ہوں۔ وہاں چارہ کبھی کبھار ہی ملتا تھا، لہٰذا جگالی کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے گھر میں موجود سارے دیوان اور لُغتیں چبا ڈالیں۔ میری خوش قسمتی کہ شاعر مجھے بھی اپنے مضامین کی طرح بے پروائی سے باندھتا تھا اور میں ایک جھٹکے سے رسی کھول کھال سارے گھر میں ’کتب خوری‘ کرتی پھرتی تھی۔

ہم: آپ کو بے زبان سے اہل زبان ہوجانے کا احساس کب ہوا؟

گائے: ایک دن گلی میں بندھے بیل کو بلانے کے لیے جو میں نے ’باں، باں‘ کرنا چاہا تو منہ سے ’جاں، جاں‘ ادا ہونے لگا۔ بیل تو یہ غیر مانوس آواز سن کر کیا آتا البتہ شاعر دوڑا چلا آیا۔ پہلے تو وہ سمجھا کہ اس کی کوئی ’جان غزل‘ راستہ بھول کر آنکلی ہے، مگر جب عُقدہ کھلا کہ میں بولنے لگی ہوں تو میرے سامنے دو زانو بیٹھ گیا اور رو رو کر فریاد کرنے لگا کہ میں جاں، جاں کہتی رہوں۔ اس مطالبے کی وجہ دریافت کی تو بولا، ’میں نے آج تک کسی عورت کے منہ سے اپنے لیے ’جان‘ کا لفظ نہیں سنا، زن نہیں تو زنانی آواز ہی سہی، دل کو قرار آجائے گا‘۔ میں نے دل رکھنے کے خیال سے اسے جان کہنا شروع کردیا، لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ یہ نیکی میرے گلے پڑجائے گی۔ ایک دن کیا ہوا کہ وہ میرے سامنے آ بیٹھا اور نہ جانے کس کا یہ شعر گنگنانے لگا

بیل بن جاﺅں، ادھر ہو جو نگاہے، گائے

دم بہ دم، لحظہ بہ لحظہ نہیں، گاہے، گائے

شاعر کے یہ تیور اور ارادے دیکھ کر میں نے کہا، ’میاں میں گائے ہوں، اﷲ میاں کی گائے نہیں جو تمہارے جھانسے میں آجاﺅں گی‘۔ یہ ٹکا سا جواب سُن کر موصوف فرطِ جذبات میں (نہ جانے پاﺅں پڑنے کہ گلے پڑنے) میری طرف لپکے اور میں اپنی عزت پر بنتی دیکھ کر ’ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں‘ کہتی رسّی تڑا کر بھاگ لی۔

ہم: جب آپ فصیح و بلیغ اردو بولتی ہیں تو پھر یہ ’باں، باں‘ کرکے دوسروں کی سماعتوں کا امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے؟

گائے: صاحب! میں گائے ہوں، آپ کے ملک کی ’خاموش اکثریت‘ نہیں کہ ہر ظلم سہوں اور کہتی رہوں۔ جو چاہے سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو، پر ہم سے قسم لے لو، کی ہو جو شکایت بھی۔ یہ ’باں باں‘ میرا پُرامن احتجاج ہے لیکن خیر.... آپ کی خاطر میں آبائی بولی ترک کرکے تنہائی مٹانے کے لیے گانا گایا کروں گی۔

ہم: کون سا بھلا؟

گائے: (ہمیں ایک ادا سے دیکھتے ہوئے گنگنانے لگی) میں کیول تمہارے لیے ’گائے‘ رہی ہوں۔

ہم: خدارا! ہم پر رحم نہیں آتا تو لتا منگیشکر پر تو ترس کھائیے۔ ان کے گانے کی دُرگت کیوں بنا رہی ہیں، وہ تو آپ کے پوجنے والوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

گائے: ارے رہنے دیجیے، میرا منہ نہ کھلوائیے.... پوجنے والے، ہونہہ۔ لتاجی کے ہم مذہبوں کی وجہ سے بھارت میں ہم گائیں جان سے جاتی ہیں۔

ہم: وہ کیسے؟

گائے: آپ کو تو پتا ہے مسلمان عمل سے زیادہ ردِعمل کے قائل ہیں، جب بھی ہندوﺅں پر غصہ آتا ہے کہتے ہیں ’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘ اور بقرعید پر ہم بے چاری ’گؤماتائیں‘ خیر و عافیت سے محروم ہوجاتی ہیں۔

ہم: افسوس آپ اس قوم سے بھی متنفر ہیں جو آپ کو پوجتی ہے۔

گائے: ارے میں تو انسانوں کی ہر قوم سے متنفر ہوں ایک کو چھوڑ کے۔

ہم: وہ خوش نصیب قوم کون ہے؟

گائے: امریکی۔ ہماری جتنی عزت امریکا میں ہے کہیں اور نہیں۔ امریکی ایک دوسرے کو ’ہیلو گائے‘ (Hello guy) کہہ کر ثابت کرتے ہیں کہ اونچی ہے ذات گائے کی۔

ہم: (جل بھن کر) تو آپ امریکی شہریت کیوں نہیں لے لیتیں۔

گائے: میری تو دیرینہ خواہش ہے کہ کسی امریکی سے شادی رچا کر ڈھیر سارے ’کاﺅ بوائے‘ پیدا کروں۔

ہم: تو دیر کس بات کی ہے، امریکی سفارت خانے جاکر ویزے کے لیے لائن میں لگ جائیے۔

گائے: (سرد آہ بھرتے ہوئے) گئی تھی، مگر وہ کہتے ہیں کہ انہیں گائے کی نہیں، قربانی کے بکروں، رٹو توتوں اور سرکس کے شیروں کی ضرورت ہے۔

ہم: (طنزیہ انداز میں) دیکھا ’محترمہ‘ امریکیوں نے دھتا بتا دی۔ ارے یہ ہم پاکستانی ہی ہیں جو آپ کے نخرے سے لے کر گوبر تک اٹھاتے ہیں۔

گائے: ارے رہنے دیجیے، آپ سے زیادہ ناشکری تو شاید ہی کوئی قوم ہو۔ دودھ ہمارا پئیں، گوشت ہمارا کھائیں اور گُن دوسرے جانوروں کے گائیں۔ آپ کے شاعروں نے شیر سے لے کر شاہین تک ہر جانور کی تعریف کے پُل باندھے ہیں، کبھی یہ نہ ہوا کہ بے چاری گائے کی شان میں 2 لفظ ہی لکھ دیں۔ مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہے، ہم سے بے اعتنائی اور بے مروتی کی ان شاعروں کو یہ کڑی سزا ملی کہ جس قوم کو شاہین صفت بنانا چاہتے تھے وہ گائے صفت بن گئی۔ اب کوئی بھی زورآور قصاب اسے گائے کی طرح پچھاڑتا ہے اور گلے پر چھری پھیر کر حصے بخرے کر لیتا ہے۔ (ناصحانہ انداز میں) دیکھو جو قوم گائے کا احترام نہیں کرتی اسے تقدیر چارہ بنا دیتی ہے۔

اب ہمیں کچھ کہنے کا یارا تھا نہ مزید سننے کی ہمت اس لیے ہم گائے سے نظریں چرائے، بکری بنے گھر آگئے۔