بلوچستان اور سندھ کے خشک سالی سے متاثر ہونے کا خطرہ

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد: نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں کا خشک سالی سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا، ساتھ ہی یہ خبردار کیا کہ آنے والے وقت میں صورتحال مزید سنگین نوعیت اختیار کرسکتی ہے کیوں کہ ملک کے کئی حصوں میں خشک سالی کا اندیشہ ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے مختصر مدت اور طویل مدت کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور تجاویز کے حوالے سےمرتب کردہ رپورٹ صدر مملکت اور وزیر اعظم کو ارسال کردی گئی۔

اس کے ساتھ ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے اس رپورٹ کے بارے میں صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، سندھ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی آگاہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: رواں سال: خشک سالی سے خریف کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ

این ڈی ایم اے مرکزی وفاقی ادارہ ہے کہ جو قدرتی آفات کے نقصانات اور اثرات کم کرنے کے لیے کام کرتا ہے جس نے صدر اور وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر یہ رپورٹ تیار کی۔

اتھارٹی کی پیش کردہ تجاویز کے مطابق ملک میں پانی کی سنگین قلت کے سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

جس کے تحت موسمی صورتحال سے متاثر ہونے والے علاقوں میں متاثرہ خاندانوں میں امدادی پیکج کی تقسیم کے لیے سندھ پی ڈی ایم اے اور صوبائی محکمہ ریلیف کو خاندانوں کی معلومات بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔

اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ افراد کی مشکلات اور مصیبت کو کم کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بروقت تعاون کو یقینی بنانے اور معلومات کے تبادلے کی غرض سے ریکوری اینڈ ری ہیبلٹیشن ڈائریکٹوریٹ کو "خشک سالی سیکریٹریٹ" کے طور پر کام کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں قحط سالی سے خواتین و بچے غذائی قلت کا شکار

اس سلسلے میں پی ڈی ایم اے سے وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کی جانب سے اضافی امداد کی ضرورت پڑنے کے حوالے سے تجاویز لی گئی ہیں۔

مذکورہ رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے این ڈی ایم اے نے سندھ پی ڈی ایم اے او ر یونائیڈ نیشن پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے ) اور یونیسف کے اشتراک سے سیمینار بھی کیا جس میں خشک سالی سے متاثرہ 3 اضلاع بالخصوص تھرپارکر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

سیمینار میں این ڈی ایم اے نے دیگر اداروں کے ساتھ انسانی ضروریات، ذراعت اور مویشیوں کے استعمال کے لیے پانی کی دستیابی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

جس میں این ڈی ایم اے نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ طویل مدتی خشک سالی ملک کے ذرعی علاقوں میں پانی کی صورتحال کشیدہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ خریف کی فصلوں کے لیے آبپاشی کے پانی کی محدود فراہمی کی وجہ سے موجودہ حالات کی سنگینی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بارشوں میں کمی، ملک کے جنوبی حصے خشک سالی کی لپیٹ میں، پی ایم ڈی

اس سلسلے میں این ڈی ایم اے نے آئندہ ماہ اسلام آباد میں ’نیشنل کنسلٹو سیمنار ‘منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پاکستان میں خشک سالی کی صورتحال میں اضافے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔

اس سیمینار کا مقصد خشک سالی کے شدید اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک جامع اور قومی حکمت عملی وضع کرنا ہے۔


یہ خبر 17 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔