ناسا کا ’انسائٹ‘ کامیابی سے مریخ کی سطح پر اتر گیا

27 نومبر 2018

ای میل

ناسا کی جانب سے مریخ پر بھیجا گیا آٹھواں کامیاب خلائی مشن ہے—فوٹو بشکریہ ناسا
ناسا کی جانب سے مریخ پر بھیجا گیا آٹھواں کامیاب خلائی مشن ہے—فوٹو بشکریہ ناسا

امریکی خلائی ادارے ناسا نے سرخ سیارے کے نام سے مشہور مریخ پر کامیابی سے خلائی مشن اتاردیا، خلائی جہاز کامیابی سے اترنے سے قبل تقریباً 7 منٹ تک فضا میں ڈگمگاتا رہا۔

9 سو 93 کروڑ ڈالر کی لاگت کے اس خلائی مشن کو بھیجنے کا مقصد مریخ کی اندرونی ساخت کا جائزہ لینا اور وہاں زلزلوں اور جھٹکوں کو ریکارڈ کرنا ہے جبکہ مریخ کی تشکیل کے حوالے سے معلومات جمع کرنا بھی اس مشن کا حصہ ہے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق کہ ’انسائٹ‘ نامی یہ خلائی جہاز ناسا کی جانب سے مریخ پر کامیابی سے اتارا جانے والا 8واں خلائی مشن ہے، جو خودکار روبوٹ کے ذریعے اپنی رہنمائی کرتا ہے۔

خلائی جہاز کے اترنے کے بعد ناسا ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے سائنسدانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر انتھک محنت کے کامیاب ہونے پر مبارکباد دی.

ناسا نے ٹوئٹ کے کر بتایا کہ خلائی مشن کامیابی سے مریخ کی سطح پر پہنچ گیا.

خیال رہے کہ کسی بھی ادارے کی جانب سے مریخ کی جانب روانہ کیے گئے محض 40 فیصد مشن اب تک کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔

زمین کے برعکس مریخ کی فضائی پرت انتہائی باریک ہے یعنی زمین کے مقابلے صرف ایک فیصد ہے چناچہ اگر مریخ پر کچھ اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی رفتار کم نہیں ہو پاتی۔

انسائٹ کی جانب سے بھیجی گئی مریخ کی دوسری تصویر —فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
انسائٹ کی جانب سے بھیجی گئی مریخ کی دوسری تصویر —فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

فونیکس خلائی جہاز کی طرح انسائٹ میں بھی پیرا شوٹ اور ریٹرو راکٹ نصب ہیں جس سے اس کے اترتے وقت رفتار کم ہونے میں مدد ملی۔

مریخ کی سطح پر اترتے ساتھ ہی خلائی مشن نے وہاں کی تصویر ارسال کی لیکن کیمرے کی لینس پر توقع کے مطابق دھول لگنے کی وجہ سے تصویر واضح نہیں آسکی، اب اس دھول کو رواں ہفتے صاف کیا جائے گا۔

بعد ازاں خلائی جہاز پر نصب دوسرے کیمرے نے تصویر ارسال کی جس میں مریخ کی سطح واضح نظر آرہی ہے.

مریخ تک پہنچنے کے لیے اس خلائی جہاز نے6 ہزار2 سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا میں 301،223،981 میل سفر کیا۔

5 مئی 2018 کو خلا میں بھیجا جانے والا یہ خلائی جہاز مریخ کی ساخت کی 2 سال تک تحقیقات کرے گا اور مریخ کی اندرونی سطح کی جانچ کرے گا جس سے اس کی تاریخ کا معلوم کیا جائے گا۔