کوہستان: ’غیرت کے نام پر‘ خواتین سمیت 4 افراد قتل

اپ ڈیٹ 22 دسمبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

شانگلہ: خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقے کوہستان کے بالائی حصے ’لوتر‘ میں غیرت کے نام پر 2 لڑکے اور 2 لڑکیوں کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) راجہ عبدالصبور نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قتل ہونے والے افراد پر خاندانی جرگے میں ناجائز تعلقات کا الزام لگایا گیا جس کے بعد چاروں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔

پولیس کے مطابق قتل ہونے والے چاروں خواتین و مرد آپس میں رشتہ دار تھے جنہیں ان کے خاندان والوں نے ہی قتل کیا.

یہ بھی پڑھیں: کوہستان اسکینڈل کیس: مدعی پر 3 بچوں کو جلاکر قتل کرنے کا الزام

ڈی پی او بالائی کوہستان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے قتل کی ایف آئی درج کرلی ہے اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کا واقعہ رات گئے پیش آیا جس کے مقدمے کے اندراج کے بعد قاتلوں کی تلاش شروع کردی گئی۔

ڈان نیوز کے مطابق چاروں افراد کو رات گئے قتل کیا گیا اور لاشیں وہیں چھوڑ دی گئیں جنہیں صبح پولیس اور مقامی افراد نے ہسپتال منتقل کیا.

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کوہستان میں ایک شادی میں شریک لڑکیوں کی لڑکوں کے رقص کرنے پر تالیاں بجانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انہیں قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کا ڈراپ سین 6 سال بعد رواں ماہ 3 دسمبر کو سامنے آیا تھا جب ان لڑکیوں کے 4 گرفتار رشتہ داروں نے لڑکیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: کوہستان میں زمین کے تنازع پر ایک ہی خاندان کے 4افراد قتل

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے لڑکیوں کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا اعتراف کیا جس کے بعد ان کی لاشیں دریا میں بہا دی گئیں تھیں جبکہ ویڈیو میں نظر آنے والی 2 لڑکیاں زندہ ہیں اس کے ساتھ رقص کرنے والے لڑکوں کے 3 بھائیوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔

2012 یاد رہے کہ میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک نوجوان نے میڈیا پر آکر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 2 چھوٹے بھائیوں نے شادی کی ایک تقریب کے دوران رقص کیا جس پر وہاں موجود خواتین نے تالیاں بجائیں۔

تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی، جس پر ایک مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کے قتل کا حکم جاری کیا جبکہ بعد ازاں ان لڑکیوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان ویڈیو اسکینڈل: 'پانچوں لڑکیوں کو قتل کیا جاچکا ہے'

تاہم میڈیا پر یہ رپورٹس سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس پر وفاقی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تردید کی تھی، بعدازاں سپریم کورٹ کے حکم پر کوہستان جانے والی ٹیم کے ارکان نے بھی لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی تھی۔

تاہم مذکورہ واقعے کی تحقیقات کے عدالت سے ایک مرتبہ پھر رجوع کرنے والے شخص نے موقف اختیار کیا تھا کہ جرگے کے حکم پر 4 لڑکیوں اور 3 لڑکوں کو قتل کردیا گیا تھا۔