وفاقی کابینہ نے 20 افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2019

ای میل

ای سی ایل میں شامل ناموں کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنادی گئی — فوٹو: اے پی پی
ای سی ایل میں شامل ناموں کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنادی گئی — فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیرِاطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 20 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق وزارتِ داخلہ کی درخواست کو مسترد کردیا۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی سفارشات پر 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزارتِ قانون نے بتایا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری فیصلہ موصول نہیں ہوا، ہمیں جیسے ہی فیصلہ موصول ہوگا پھر اس کے مطابق معاملات دیکھیں گےجبکہ فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل بھی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ای سی ایل میں شامل ناموں کا جائزہ لے گی۔

مزید پڑھیں: اومنی گروپ کے اصل مالک آصف علی زرداری ہی ہیں، فواد چوہدری

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وزیر، قانون فروغ نسیم، وزیرِاعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور سیکریٹری داخلہ پر مشتمل ہوگی جو اپنی سفارشات کابینہ کو بھیجے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کابینہ فیصلہ کرے گی کہ اس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جانا چاہیے یا نہیں جانا چاہیے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جو پالیسیاں مرتب کی گئی تھیں ان کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں جس پر کابینہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ ابتدا سے ہی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے اور دسمبر کے مہینے میں برآمدات میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدات میں 8.5 فیصد کمی بھی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی ایل میں نام ڈالے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وزیراعلیٰ سندھ

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تجارتی خسارے میں ایک ماہ کے دوران 54 کروڑ ڈالر تقریباً 19 فیصد کمی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت قانون کو ہدایت جاری کی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق ایسی ملازمتوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے جو وہ بلا کسی قانونی عذر کے کر سکتے ہوں، تاکہ انہیں پاکستان میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا جائے۔

وزیرِاطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان اس وقت وزیراعظم ہاؤس میں رہائش پذیر نہیں ہیں لیکن پھر بھی اس کا بجلی کا بل اتنا ہی آرہا ہے جتنا نواز شریف کے دورِ حکومت میں آتا تھا جس کی وجہ سے وزیرِاعظم نے اس معاملے پر انٹرنل آڈٹ کا حکم دیا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے وزرا نے جس جس چیز پر ہاتھ رکھا وہ نقصان میں ہی ہے جبکہ خود کو گیس کا آئن اسٹائن سمجھنے والے شاہد خاقان عباسی نے گیس سیکٹر کو اربوں روپے کا مقروض چھوڑا ہے۔

مزید پڑھیں: کابینہ کا 'ای سی ایل' میں شامل 172 افراد کےنام نظرثانی کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارت پیٹرولیم کو گیس کی جامع پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے کیونکہ ملک کی بہت بڑی آبادی قدرتی گیس سےمحروم ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے مہنگائی کے حوالے سے واویلا مچایا جارہا ہے جو بے بنیاد ہے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 دورِ حکومت کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران مہنگائی میں موجودہ حکومت سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران افراط زر میں صرف 0.4 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو سکون فراہم کرنا ہی تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔