شکست سامنے دیکھ کر کپتان سرفراز آپے سے باہر ہو گئے

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2019

ای میل

کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقی آل راؤنڈر ایندائل فلکوایو پر نسل پرستانہ جملے کسے— فوٹو: اے ایف پی
کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقی آل راؤنڈر ایندائل فلکوایو پر نسل پرستانہ جملے کسے— فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں شکست کو سامنے دیکھ کر اپنا آپا کھو بیٹھے اور جنوبی افریقی آل راؤنڈر ایندائل فلکوایو پر 'نسل پرستانہ' جملے کس دیئے جس پر انہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستان نے حسن علی کے 59 رنز کی بدولت میزبان ٹیم کو 204 رنز کا ہدف دیا۔

ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقی ٹیم 80 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم ہو گئی اور اس موقع پر پاکستان کی فتح کے امکانت کافی روشن ہو گئے تھے، لیکن پھر ایندائل فلکوایو اور روسی وین ڈر ڈوسن وکٹ پر ڈٹ گئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے پاکستانی کپتان سرفراز احمد اور باؤلرز کے تمام تر حربوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کیا۔

یقینی فتح ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر قومی ٹیم کے کپتان اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور جنوبی افریقی کرکٹر فلکوایو پر نسل پرستانہ جملے کس دیئے۔

سرفراز نے میچ کی دوسری اننگز کے دوران فلکوایو کو پکارتے ہوئے کہا کہ ’ابے کالے، تیری امی کہاں بیٹھی ہوئی ہیں آج، کیا پڑھوا کے آیا ہے تو‘۔

یہ واقعہ جنوبی افریقی اننگز کے 37ویں اوور میں پیش آیا جب شاہین شاہ آفریدی باؤلنگ کر رہے تھے اور اس موقع پر کمنٹیٹر نے رمیز راجہ سے اس کے معنی بھی بتانے کی گزارش کی، لیکن موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے رمیز راجہ بات کو ٹال گئے۔

واضح رہے کہ فلکوایو نے میچ میں کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 22 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں اور پھر مشکل مرحلے پر ناقابل شکست 69 رنز کی اننگز کھیل کر مین آف دی میچ ایوارڈ کے حقدار قرار پائے۔

سرفراز احمد کو اس جملے پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے اور متعدد شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی ٹیم کے کپتان کے اس رویے پر ان کی سرزنش کرے، جبکہ کچھ لوگوں نے سرفراز پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔

دنیا کے تیز ترین سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بھی سرفراز احمد کے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

اب دیکھنا ہو گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس واقعے پر کوئی ایکشن لیتے ہیں یا نہیں کیونکہ اگر کھیل کی عالمی گورننگ باڈی اس واقعے کا نوٹس لیتی ہے تو سرفراز احمد کو پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔