جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ: آصف زرداری کی نظر ثانی پر جلد سماعت کی درخواست

09 فروری 2019

ای میل

وکلا نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل الزامات ثابت ہونے تک معصوم ہیں — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
وکلا نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل الزامات ثابت ہونے تک معصوم ہیں — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

اسلام آباد: سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کے معاملے میں سپریم کورٹ سے نظرثانی درخواست کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کردی۔

جلد سماعت کی درخواست آصف علی زرداری کی جانب سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ اورشہباز کھوسہ نے دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نظرثانی درخواست 12 فروری کو سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: جعلی اکاؤنٹس کیس پر نیب کی پہلی پیش رفت رپورٹ جمع

وکلا نے درخواست کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل کو نیب کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کے معاملے میں کارروائی کا سامنا ہے، اور موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل الزامات ثابت ہونے تک معصوم ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ میرے موکل کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور ساتھ ہی عدالت سے استدعا کی گئی کہ نظر ثانی درخواست پر 12 فروری کو سماعت کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست

علاوہ ازیں جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں ہی وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرلیا اور سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل میں موقف اپنایا کہ شوگر ملز کو سبسڈی کی قرار داد سندھ اسمبلی نے منظور کی تھی جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ سے نام نکالنے کے زبانی حکم کو تحریری فیصلے میں شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی جعلی اکاؤنٹس ٹرانزیکشنز ثابت نہیں کرسکی جبکہ مقدمے کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی اور عمل درآمد بینچ کی تشکیل کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی درخواست میں وفاق، نیب اور جے آئی ٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کی عدالتی فیصلے کےخلاف نظرثانی اپیل

واضح رہے کہ 7 جنوری 2019 کو اپنے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے معاملے کی ازسر نو تحقیقات کی ہدایت دی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ سے نکالنے کا حکم بھی دیا تھا۔

تاہم بعد ازاں 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاوٹنس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے فی الحال نکال دیا جائے۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل تھا جس کو جسٹس اعجازالاحسن نے تحریر کیا تھا۔

28 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کے خلاف آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'جعلی اکاؤنٹ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو فیصلہ سمجھ لیا گیا ہے'

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔