کئی ممالک پاک۔بھارت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکی صدر

اپ ڈیٹ 23 فروری 2019

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کافی مسائل پیدا ہو گئے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کافی مسائل پیدا ہو گئے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور دیگر ممالک جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمعے کی دوپہر اوول آفس میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال انتہائی خراب ہے اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر حملہ، 44 بھارتی فوجی ہلاک

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تمام تر صورتحال کو روکنا ہو گا، کئی لوگ مارے جا چکے ہیں، ہم اسے ہر حال میں روکنا چاہتے ہیں اور اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔

خیال رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی بھارتی فوج کے قافلے سے ٹکرا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 40 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

بھارت نے فوری طور پر پاکستان کو حملے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے جوابی حملے کی دھمکی دی تھی۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر بھارت ثبوت فراہم کرے تو پاکستان معاملے کی تحقیقات کرے گا لیکن ساتھ ساتھ خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کے حملے کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جارحیت کی گئی تو بھارت کو حیران کردیں گے، پاک فوج

جمعے کو پاک فوج نے بھی بھارت کو کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر جارحیت کی گئی تو بھارت کو حیران کردیں گے۔

دونوں ممالک کے حکام کے درمیان جاری لفظی جنگ نے عالمی طاقتوں کو بھی خبردار کردیا، اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر پاکستان اور بھارت سے رابطہ کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم دونوں ممالک سے بات کر رہے ہیں، کئی لوگ ان سے بات کر رہے ہیں، یہ انتہائی پیچیدہ توازن کی صورتحال ہے کیونکہ جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کافی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت سے مستقبل کے تمام کھیلوں کے ایونٹس کی میزبانی چھین لی گئی

یاد رہے کہ بھارت ماضی میں پاکستان سے بات چیت میں کسی ثالث کے کردار کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے دوطرفہ بات چیت پر اصرار کرتا رہا ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ وہ شدت پسندی کا بہانہ بنا کر پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات سے بھی مستقل انکار کرتا رہا ہے۔

اس صورتحال میں ثالثوں کے لیے ایک خطرناک صورت پیدا ہو گئی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے ان کی جانب سے کی گئی کوششوں کا بھی سرعام ذکر نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اس سے بھارت ناراض ہو جائے گا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے اب تک اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ امریکا اور دوسری عالمی قوتوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

امریکی صدر نے بھارت کو یقین دلایا کہ امریکا ان کے احساسات کو سمجھتا ہے، بھارت نے حملے میں تقریباً 50 لوگوں کو گنوایا ہے اور میں یہ سمجھ سکتا ہوں جبکہ ہماری انتظامیہ دونوں ملکوں کے حکام سے بات کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی بورڈ کا آئی سی سی کو پاکستان مخالف خط

پاکستان پر جوابی حملوں کی دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی تنہا کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں جہاں اس نے پاکستان سے ’سب سے پسندیدہ قوم‘ کا درجہ واپس لیتے ہوئے اس کی تمام مصنوعات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کردی ہے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پلوامہ حملے میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھارت سے ہر ممکن تعاون کریں۔

اسی روز پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے شدت پسند عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاحِ انسانیت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'پلواما حملے پر بھارت کی الزام تراشیاں بے بنیاد ہیں'

پلوامہ حملے پر بھارت سے تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں حالیہ دنوں میں آنے والی بہتری کا ذکر بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگی روک دی ہے جو ہم ان کو دیا کرتے تھے، اس دوران ہم پاکستان کے ساتھ چند ملاقاتوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

البتہ امریکی صدر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ملاقاتیں کس سطح کی ہوں گی اور ان کی نوعیت کیا ہوگی یا ان کا انعقاد کس وقت کیا جائے گا۔

حال ہی میں امریکا کے قریبی ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نومنتخب پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو واشنگٹن آنے کی دعوت دے کر ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی بھارت میں مقیم کشمیریوں کو حملوں سے بچائیں، ایمنسٹی

تاہم امریکی صدر کی جانب سے منسوخ شدہ امداد پر اصرار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن ملاقاتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں بھی پاکستان کو دی جانے والی امداد کی بحالی پر گفتگو کی جائے گی۔

امریکی صدر نے پاکستان کی امداد روکنے کے فیصلے کی ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دیگر امریکی صدور کی موجودگی میں امریکا کا بہت فائدہ اٹھایا، ہم پاکستان کو سالانہ 1.3ارب ڈالر دے رہے تھے، میں نے وہ امداد بند کر دی کیونکہ پاکستان ہماری اس طرح مدد نہیں کر رہا تھا جس طرح اسے کرنی چاہیے تھی۔