’بھارتی وزیراعظم نے فضائی حملے کی کامیابی کو خود مشکوک بنادیا‘

اپ ڈیٹ 04 مارچ 2019

ای میل

راہول گاندھی کے مطابق رافیل طیاروں کی آمد میں تاخیر کی سراسر ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے — فوٹو: اے ایف پی
راہول گاندھی کے مطابق رافیل طیاروں کی آمد میں تاخیر کی سراسر ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے — فوٹو: اے ایف پی

نئی دہلی: بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا حکومت کو بھی اپنے مشن کی کامیابی پر شکوک و شبہات ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے ایئر فورس کے لیے رافیل طیاروں کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے ہوئے، اسے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں ہونے والے نقصان کی وجہ قرار دیا تھا۔

کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی یہ بیان دے کر کہ ’ملک کو رافیل طیاروں کی کمی کا سامنا ہے، اگر یہ طیارے بھارت کے پاس ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے‘ بذاتِ خود پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا بالاکوٹ حملے کے شواہد پیش کرنے سے انکار

نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان منیش تیواری کا کہنا تھا کہ ’آخر اس بیان کا مطلب کیا ہے‘۔

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کا مزید کہنا تھا کہ نہ تو ہم نے پہلے فضائی کارروائی کے ثبوت مانگے نہ اب اس کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم خود اس بات کی وضاحت کریں کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں کیا فرق ہوتا، اس کے ساتھ انہوں نے نریندر مودی کو فرانسیسی ساختہ طیاروں کی خریداری کے اولین معاہدے کو منسوخ کرنے پر ان کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں مقبولیت بڑھانے کا آسان طریقہ پاکستان دشمنی ہے

واضح رہے کہ نریند مودی نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے حملے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’بھارت کو رافیل طیاروں کی غیر موجودگی محسوس ہوئی، پورا ملک ہم آواز ہو کر یہ کہہ رہا ہے کہ اگر ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے، انہوں نے کہا کہ پہلے مفادات اور اب رافیل طیاروں پر سیاست کے باعث ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑا‘۔

دوسری جانب کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ رافیل طیاروں کی آمد میں تاخیر کی سراسر ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں صحافی سمیت کشمیری نوجوانوں پر حملے

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’جناب وزیراعظم، کیا آپ کو کوئی شرمندگی نہیں، آپ نے 30 ہزار کروڑ روپے چرا کر اپنے دوست انیل امبانی کو دے دیے، رافیل طیاروں کی خرایداری میں تاخیر کے ذمہ دار صرف اور صرف آپ ہیں‘۔

دوسری جانب نریند مودی نے پٹنا میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر کیے گئے حملے کے بارے میں سوالات پوچھنے پر اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ '50 سالوں میں پہلی مرتبہ بھارت کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اور اس کے موقف کو احترام سے سنا گیا‘۔

تاہم انہوں نے اس بات سے صرفِ نظر کیا کہ او آئی سی کشمیر کے بارے میں اپنے موقف پر قائم ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔