نواز شریف نے درخواست ضمانت کی جلد سماعت کیلئے دوسری مرتبہ عدالت سے رجوع کرلیا

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2019

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں طبی بنیادوں پر نواز شریف کی درخواست ضمانت کو مسترد کردیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں طبی بنیادوں پر نواز شریف کی درخواست ضمانت کو مسترد کردیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 25 فروری کے فیصلے کے خلاف ضمانت کی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے نئی درخواست دائر کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 فروری کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں طبعی بنیادوں پر نواز شریف کی درخواست ضمانت کو مسترد کردیا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل کی جانب سے یہ درخواست عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ان کی جلد سماعت کی درخواست کو مسترد کرنے کے ایک ہفتے بعد دائر کی گئی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: نوازشریف کی درخواست ضمانت پر جلد سماعت کی اپیل مسترد

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نواز شریف کی صحت پہلے سے زیادہ خراب ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ وہ رواں ہفتے ہی درخواست کی سماعت مقرر کرے۔

اس سے قبل سینئر وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں نواز شریف کی طرف سے درخواست دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت احتساب عدالت نمبر 2 کی جانب سے 24 دسمبر 2018 کو دی گئی 7 سال کی قید کی سزا معطل کرے اور ضمانت منظور کرے۔

اس وقت عدالت میں دائر درخواست میں ایک الگ سے درخواست بھی دائر کی گئی تھی، جس میں 6 مارچ کو درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے جلدی سماعت کی درخواست کو اس بنیاد پر واپس کردیا تھا کہ اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاسکتی اور معمول کے طریقہ کار کو اپنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 فروری کو نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ نواز شریف کی کسی میڈیکل رپورٹ سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ ان کی خراب صحت ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اس کے ساتھ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ جب بھی انہیں خراب صحت کی شکایت ہوئی انہیں وقتاً فوقتاً علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: علاج کی بھیک مانگی نہ مانگوں گا، نواز شریف

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹروں کی مرتب کردہ رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ درخواست گزار کو وہ تمام بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی گئیں جو پاکستان میں کسی بھی فرد کو حاصل ہیں۔

تاہم نواز شریف نے اس فیصلے کے خلاف ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین کی دفعہ 9 کے تحت زندگی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ پاکستان پرزنر رولز 1978 کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا جو ان کی طبی بنیاد پر درخواست ضمانت کو مسترد کیا جائے۔

نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں خصوصی میڈیکل بورڈز کی تشخیص کا بھی ذکر کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں امراضِ قلب و شریان، ذیابطیس، ہائپرٹینشن، گردے کے مسائل وغیرہ لاحق ہیں۔