گلالئی اسماعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2019

ای میل

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گلالئی اسماعیل پر بیرون ملک ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گلالئی اسماعیل پر بیرون ملک ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گلالئی اسماعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

حکومت کی جانب سے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے فیصلے کو گلالئی اسماعیل نے چیلنج کیا تھا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 10جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’آئی ایس آئی کی تجویز پر گلالئی اسمٰعیل کا نام ای سی ایل میں درج ہوا‘

البتہ ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ انٹر سروسز انٹیی جنس (آئی ایس آئی) کی تجاویز کی روشنی میں وزارت داخلہ گلالئی کا پاسپورٹ ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مناسب اقدامات کرے۔

گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ گلالئی کی مبینہ طور پر بیرون ملک ریاست مخالف سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے آئی ایس آئی نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران گلالئی کے وکیل بابر ستار نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچھ پختون رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر میں ان کا نام شامل نہ ہونے کے باوجود برطانیہ سے وطن واپس آتے ہی ان کی موکل کو گرفتار کر لیا گیا۔

اپنی درخواست میں گلالئی اسماعیل نے 12 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ضبط کیے گئے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا، انہیں ایف آئی اے کے اسلام آباد آفس میں کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس اطہر من اللہ کی گلالئی اسمٰعیل کی درخواست سننے سے معذرت

درخواست میں کہا تھا کہ گلالئی اسماعیل غیرسرکاری تنظیم آویئر گرلز (لڑکیوں میں آگاہی) کی سربراہ ہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ان کے کام کو مقامی اور عالمی سطح پر بہت سراہا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے 12 اکتوبر کو لندن سے وطن واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا تھا جہاں ان پر پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے تعلق اور مبینہ طور پر ریاست مخالف تقریریں کرنے کا الزام تھا۔

البتہ درخواست گزار نے کہا کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور کبھی بھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہیں۔

گلالئی اسماعیل نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا جبکہ ایف آئی اے نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور انہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ان کا نام نکالا جائے اور ایف آئی اے کو ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کی بھی ہدایات دی جائیں۔

مزید پڑھیں: صوابی کی گلالئی اسماعیل کے لیے برطانیہ کا ایوارڈ

اپنے فیصلے میں جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جس متنازع میمورنڈم کے تحت گلالئی کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اسے خارج کیا جاتا ہے اور متعلقہ فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ درخواست گزار کا پاسپورٹ انہیں واپس کریں۔

تاہم عدالت نے کہا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجاویز کی روشنی میں اس امر کی ضرورت ہے کہ وزارت داخلہ کے حکام اس معاملے پر ایکشن لینے کے لیے مناسب کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں اور قانون کی روشنی میں ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کر سکتے ہیں۔