’نئے پاکستان میں دہشت گردوں کیلئے کوئی جگہ نہیں‘

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2019

ای میل

نریندر مودی جارحیت پسند ہیں،وہ دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لے آئے،عمران خان —فوٹو: اسکرین شاٹ
نریندر مودی جارحیت پسند ہیں،وہ دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لے آئے،عمران خان —فوٹو: اسکرین شاٹ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا جیش محمد سے کوئی تعلق نہیں ہے، نئے پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے اور پڑوسی ملک میں انتخابات سے قبل کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے جیش محمد سے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی ایئر فورس کی دراندازی کی کوشش، پاک فضائیہ کا بروقت ردِ عمل

خیال رہے کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ فروری میں پلوامہ کے علاقے میں بھارتی پیراملٹری پولیس پر حملہ کالعدم تنظیم جیش محمد کی جانب سے کیا گیا تھا۔

عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جارحیت پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لے آئے۔

تاہم ساتھ ساتھ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کے ’نئے پاکستان ‘ میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پہلے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف آج جو ہورہا ہے اس سے پہلی کبھی نہیں ہوا۔

وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جب پلوامہ واقعہ ہوا اس وقت مجھے محسوس ہوا تھا کہ بھارتی حکومت اسے جنگی جنون پیدا کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے گرفتار پائلٹ کو جذبہ خیر سگالی کے تحت کل رہا کردیں گے، وزیراعظم

عمران خان نے کہا کہ بھارتی کے عوام کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ یہ سب صرف انتخابات جیتنے کے لیے ہے، اس کا برصغیر کے حقیقی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں مودی کی مسلمان مخالف حکومت اور سخت پالیسیوں کو پلوامہ حملےکا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں جیش محمد موجود ہے اور وہ 19 سالہ لڑکا جس نے خود کو دھماکے سے اڑایا وہ کشمیری تھا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس نوجوان کے والد نے کہا کہ سیکیورٹی فورس کے بعض مظالم کی وجہ سے اس نے ایسا کیا، اس واقعے میں بھارتی شہری تھا، بھارتی آپریشن ، بھارتی گاڑی، بھارتی دھماکا خیز مواد، پاکستان کو مورد الزام کیوں ٹھہرایا گیا؟۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کو جگہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا اور ہم پلوامہ جیسی دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مورد الزام ٹھہرائے جانا برداشت نہیں کرسکتے۔

’پاکستان آخری مرتبہ آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا‘

وزیراعطم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے معاہدے کے نزدیک ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف مشن چیف کی وزیرخزانہ سے ملاقات، مختلف معاملات پر تبادلہ خیال

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں پرعزم ہوں کہ پاکستان آخری مرتبہ آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔

’چین نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعاون کیا‘

پاکستان کے دیرینہ دوست چین سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعاون کیا جس پر اس کے شکرگزار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان نگراں حکومت سے متعلق وزیر اعظم کا بیان غلط انداز میں پیش کیا گیا، دفترخارجہ

تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ پاکستان چین کی کلائنٹ ریاست بن چکا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو کی طرح عمران خان نے کہا کہ وہ چین کے صوبے سنکیانگ میں 10 لاکھ مسلمانوں سے کیے جانے والے سلوک سے آگاہ نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ ’ مجھے اس حوالے سے زیادہ علم نہیں‘۔