آف شور کمپنیوں پر کارروائی کا سامنا کرنے والے جج نے استعفیٰ دے دیا

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2019

ای میل

جسٹس فرخ عرفان نے آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کے باعث استعفیٰ دے دیا— فائل فوٹو: ڈان
جسٹس فرخ عرفان نے آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کے باعث استعفیٰ دے دیا— فائل فوٹو: ڈان

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان نے آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کے باعث استعفیٰ دے دیا۔

جسٹس فرخ عرفان کا نام آف شور کمپنیوں میں آیا تھا اور سپریم جوڈیشل کونسل میں بیرون ملک اثاثوں سے متعلق ریفرنس پر کارروائی چل رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو ارسال کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس فرخ عرفان سے بیرون ملک اثاثوں کی منی ٹریل طلب

انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ 2016 میں سپریم جوڈیشل کونسل میں میرے خلاف بیرون ملک جائیدادیں خریدنے سے متعلق شکایت درج کروائی گئی تھی۔

جسٹس فرخ عرفان نے لکھا کہ یہ شکایت سابق بیوروکریٹ نذر محمد چوہان نے درج کروائی تھی، جنہوں نے 2010 میں بطور جج تعیناتی کے خلاف بھی شکایت درج کی تھی جسے مسترد کیا گیا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ میں نے 9 سال جج کے طور پر فرائض سرانجام دیے ہیں اور عرصے میں 29 ہزار افراد مقدمات کے فیصلے سنائے۔

رواں برس جنوری میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان کے خلاف بیرون ملک اثاثوں سے متعلق ریفرنس پر کھلی عدالت میں سماعت کی تھی۔

جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے جسٹس فرخ عرفان کے 2011،2012 اور 2010 کے ٹیکس ریٹرن طلب کیے تھے‘۔

جس پر وکیل استغاثہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ’جسٹس فرخ عرفان کے 2010 سے آگے کے ٹیکس ریٹرن ریکارڈ پر موجود ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: افتخار محمد چوہدری کو سمن جاری کرنا مناسب نہیں لگتا، چیف جسٹس

وکیل استغاثہ نے کہا تھا کہ ’نوٹس آف شور کمپنی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر جاری کیا گیا‘۔

دوران سماعت نمائندہ ایس ای سی پی نے جسٹس فرخ عرفان کی پانچ کمپنیوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا تھا۔

چیئرمین جوڈیشل کونسل جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ ’یہ تسلیم شدہ ہے کہ جسٹس فرخ نے کمپنیاں بنائیں اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک جائیداد خریدی گئی‘۔

جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت جسٹس فرخ عرفان سے استفسار کیا تھا کہ ’بیرون ملک جائیداد خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا، کیا پیسہ بیرون ملک کمایا یا پاکستان سے گیا؟‘

اس ضمن میں چیئرمین جوڈیشل کونسل نے واضح کیا تھا کہ ’منی ٹریل کی وضاحت جسٹس فرخ عرفان خود دیں گے، انہیں بیرون ملک جائیداد خریدنے کا جواب تو دینا ہوگا‘۔