وزیر مملکت، وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی کے بعد ہزارہ برادری کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 15 اپريل 2019

ای میل

وزیر مملکت شہریار آفریدی نے ہزارہ برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کی — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر مملکت شہریار آفریدی نے ہزارہ برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کی — فوٹو: ڈان نیوز

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی خودکش دھماکے کے بعد احتجاج کرنے والے ہزارہ برادری کے ارکان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی یقین دہانی پر چار روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے میں ہزارہ برادری کے 7 افراد سمیت 20 جاں بحق اور 48 زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ ’ہزاری برادری نے بہت مشکلات اٹھائی ہیں اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر صبر کا مظاہرہ کیا ہے، دہشت گردی کے واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا‘۔

کوئٹہ میں بارش اور سرد موسم کے باوجود ہزارہ برادری کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری تھا، جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے آنے اور مطالبات پر عمل درآمد کی یقین دہانی تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ دھماکا: ہلاکتوں کے خلاف ہزارہ برادری کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری

ہزارہ برادری نے اپنے تحفظ اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان آ کر یقین دہانی نہیں کرائیں گے، اس وقت تک وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

شہر کو ہائی وے سے منسلک کرنے والے مغربی بائی پاس پر ان مظاہرین نے دھرنا دیا، یہ سڑک آمدورفت کے لیے بند رہی اور اس علاقے کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لیے رکھا جہاں ان مظاہرین نے کیمپ قائم کر رکھا تھا۔

مظاہرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ طاہر ہزارہ نے وفاقی حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد وزیر اعظم کے پاس کوئٹہ کا دورہ کر کے متاثرین سے ملنے کا کوئی وقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے جہاں دہشت گردوں نے ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق

ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ 10سال کے دوران ہم اپنے سیکڑوں چاہنے والوں کو کھو چکے ہیں‘۔

ایڈووکیٹ طاہر نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو پارلیمنٹ میں سب کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا لیکن اس کے بہت سے نکات پر عمل نہیں کیا گیا، اسی وجہ سے دہشت گردوں کی جانب سے ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے حوالے سے یقین دہانی کرائیں۔

مظاہرین نے عوام کے تحفظ میں ناکامی پر حکام کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

صوبائی حکام نے مظاہرین سے رابطہ کر کے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے حوالے سے یقین دہانی کرائی لیکن انہوں نے اپنے مطالبات پورے کیے جانے تک دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ادھر مجلس وحدت مسلمین کے مزید کارکنان بھی احتجاج کا حصہ بن گئے اور انہوں نے ہزارہ برادری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

مجلس وحدت مسلمین کے جنرل سیکریٹری علامہ راجہ ناصر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائے، ہزارہ برادری پر مستقل حملوں سے دنیا کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ پاکستان محفوظ ملک نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں کوئی بھی محفوظ نہیں، عام آدمی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہو رہے ہیں، انہوں نے حکومتی صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست کو مزید کسی تاخیر کے بغیر حرکت میں آنا چاہیے کیونکہ لوگ جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔