سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز پر تمام ٹیکسز بحال کردیے

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2019

ای میل

عدالت ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی، سپریم کورٹ — فوٹو: اے ایف پی
عدالت ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی، سپریم کورٹ — فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے موبائل فون ٹیکس سے متعلق کیس میں جون 2018 کو جاری کیے گئے حکم امتناع کو واپس لیتے ہوئے موبائل فون کارڈز پر تمام ٹیکسز بحال کردیے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے موبائل فون کمپنیوں سے اضافی ٹیکس وصولی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

آج ہونے والی سماعت میں صوبوں کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے موبائل فون ٹیکس سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پبلک ریونیو اور ٹیکس معاملات پر مداخلت کیے بغیر عدالت یہ از خود نوٹس مقدمہ نمٹاتی ہے۔

خیال رہے کہ جون 2018 میں سپریم کورٹ نے موبائل کارڈ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر )اور موبائل کمپنیز کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز کو معطل کرتے ہوئے ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دی تھی۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایک بندہ اگر ٹیکس نیٹ میں نہیں آتا تو اس سے کیسے ٹیکس وصول کرسکتے ہیں، 100 روپے کے کارڈ لوڈ کرنے پر 64 روپے 38 پیسے وصول ہوتے ہیں، جو غیر قانونی ہے۔

آج ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کی ایسی عدالتی مثال موجود ہے جس میں ٹیکس مقدمے پر آرٹیکل 184 کی شق 3 کا استعمال ہوا ہو؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں ایسے شہریوں سے ٹیکس لیا جارہا تھا جو انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے، ملک کے 13 لاکھ شہری ٹیکس دہندہ ہیں جبکہ 2 کروڑ سے زائد شہریوں سے موبائل ٹیکس لیا جارہا ہے۔

انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ نان فائلرز شہریوں سے موبائل ٹیکس لینے کے خلاف مقدمہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے، ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس دوران عدالت میں موجود اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکم ٹیکس کا قانون بنانے والا غیر ملکی تھا۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم آپ کی دلیل سے متفق نہیں ہوتے تو کیا چیپٹر 12 ختم ہو جائے گا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر چیپٹر 12 ختم ہو جاتا ہے تو ٹیکس کی مد میں حکومتی آمدن 40 فیصد کم ہو جائے گی۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب موبائل فون کمپنیاں اور صارفین سونے کا انڈا دینے والی مرغیاں ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو شخص سیب بھی خریدتا ہے وہ بھی ٹیکس دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی و صوبائی حکومتوں سے موبائل کمپنیوں کے ٹیکس کی تفصیلات طلب

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کیا ہے؟ کیا اگر کوئی میرے چیمبرز میں آ کر میرے نوٹس میں کوئی چیز لائے تو کیا میں سپریم کورٹ ہوں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب آپ عدالت میں ہیں تو آپ سپریم کورٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت میں بینچ کا ہونا ضروری ہے یا ایک جج کا؟

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ 3 مئی 2018 کو موبائل ٹیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں آیا،یہ معاملہ انسانی حقوق سیل کے ذریعے بینچ کے نوٹس میں لایا گیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کے جائزے کے بعد نوٹسز جاری کیے گئے،عدالت نے معاملے کا جائزہ لیا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق میں آتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے نوٹسز جاری کیے اور اس حوالے سے وجوہات بھی بیان کی تھیں۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ وہ وجوہات پڑھ لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے وہ کیس نہیں ہے۔

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین کے دلائل شروع ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دلائل کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نوٹ پر یا کسی معلومات پر ازخود نوٹس لیتی ہے۔

جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جج کے علاوہ کوئی اور شخص نوٹ پُٹ نہیں کر سکتا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی اور نوٹ پُٹ کر بھی سکتا ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے، لاکھوں ٹیکس نہ دینے کے قابل شہریوں سے بالواسطہ ٹیکس لیا جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا موبائل کارڈ پر ٹیکسز کی بحالی کا فارمولا پیش کرنے کا فیصلہ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے جس نوٹ پر ازخود نوٹس لیا اس میں متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی گئی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب وہ مرحلہ گزر چکا ہے،اب ہمارے لیے مقدمے کے آغاز کی طرف واپس جانا ناممکن ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نظرثانی کیس سن رہے ہیں، جو احکامات جاری کر دیے گئے انہیں چھوڑ دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آخری مرحلے تک ہمارے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ یہ کہہ دیں مقدمہ مفاد عامہ کا نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184 کے تحت خود اپنے اختیارات کو کیسے ریگولیٹ کرے گی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ وسیع معاملہ ہے جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ موبائل ٹیکس سے متاثرہ کوئی بھی شخص سپریم کورٹ میں نہیں آیا جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ لاکھوں لوگوں سے لی گئی خطیر رقم سے متعلق ہے۔

سماعت کے دوران عدالت میں موجود سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ کسی شخص نے سپریم کورٹ سے آ کر یہ نہیں کہا کہ اس کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نان فائلرز سے بلوں میں ٹی وی ٹیکس لیا جاتا ہے۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ٹی وی ٹیکس بنیادی طور پر پی ٹی وی سے متعلق ہے، کیا کوئی جا کر یہ کہہ سکتا ہے میں پی ٹی وی نہیں دیکھتا، ٹی وی ٹیکس نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں: موبائل فون بیلنس پر اضافی کٹوتی: چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا، ایک گیلن پیٹرول لینے والوں سے سیلاب ٹیکس لیا جاتا، 90 کی دہائی تک مشرقی پاکستان سیلاب ٹیکس لیا جاتا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا رہا ،سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پیغام کی بنیاد پر ازخود نوٹس لیا، پیغام میں کہا گیا کہ موبائل کمپنیوں نے ڈھونگ رچا رکھا ہے اور حکومتوں کی چال ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوشل میڈیا پیغام میں کہا گیا کہ موبائل ٹیکسوں پر چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں، سوشل میڈیا پیغام کس کی طرف سے جاری کیا گیا اس حوالے سے کچھ علم نہیں۔

جس پر سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ سوشل میڈیا میں غلط معلومات کی بھرمار ہوتی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوشل میڈیا پیغام کے آخر میں تو یہ لکھا گیا کہ یہ بیس کروڑ عوام کا مطالبہ ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوشل میڈیا پیغام کس نے دیا اس کا نام درج نہیں، ہو سکتا ہے یہ گھوسٹ پیغام ہو، آج کل کی دنیا میں سوشل میڈیا پر جعلی معلومات کی بھرمار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے گئے،ہم نے وضاحت دی کہ میرا کوئی اکاؤنٹ نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وکیل پنجاب حکومت قاسم چوہان کے دلائل شروع ہوئے۔

سندھ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے پرائیویٹ وکیل کرنے پر عدالت کا اعتراض کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل کارڈ ٹیکس کٹوتی کیس: ایف بی آر کا جواب سپریم کورٹ میں جمع

وکیل پنجاب حکومت نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر موبائل صارف پشاور میں بیلنس لوڈ کرواتا ہے اور استعمال کراچی میں کرتا ہے تو ٹیکس سندھ حکومت کو جائے گا، جس وقت آپ موبائل فون استعمال کرتے ہیں اسی وقت سے آپ کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پنجاب حکومت کو 27 ارب روپے کا نقصان ہوا، رواں سال یہ نقصان 23 ارب روپے ہوا ہے۔

وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ فیصلہ ہمارے حق میں آنے پر ہم اس نقصان کی تلافی چاہیں گے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ وصولی تو آپ نے ہم سے کرنی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ٹیکس کٹوتی کرنے سے تو عدالت نے روکا تھا، کمپنیوں کو تو کچھ نہیں ملا، اگر دعویٰ کریں گے تو ہمارے خلاف کریں گے۔

جس کے بعد پنجاب حکومت کے وکیل کے دلائل مکمل ہوگئے۔

بعد ازاں بلوچستان حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ہم موبائل فون صارفین سے ایڈوانس ٹیکس نہیں لے رہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب موبائل نہیں تھے تب آپ کا ریونیو کیسے آتا تھا، لوگ تو تب بھی بات کرتے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب لوگوں نے بات کرنے کا نیا طریقہ نکال لیا ہے کیا اب ان سے پیسے لیں گے؟ اس پر وکیل بلوچستان حکومت نے ریمارکس دیے کہ پہلے موبائل کمپنیاں مزے کر رہی تھیں،پہلے اس حوالے سے کوئی قانون نہیں تھا۔

بلوچستان حکومت کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کیس نمٹادیا۔

خیال رہے کہ 3 مئی 2018 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران موبائل فون بیلنس پر اضافی کٹوتی کے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

8 مئی کو اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ٹیکس کس قانون کے تحت وصول کیا جارہا ہے اور حکم دیا تھا کہ مختلف ممالک میں کال ریٹ کا تقابلی جائزہ چارٹ پیش کیا جائے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ 100 روپے کے موبائل کارڈ پر موبائل کمپنیاں 19.5 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرتی ہیں، دس فیصد سروس چارجز اور 12.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لیا جاتا ہے۔

جس کے بعد 11 جون 2018 میں سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز پر تمام ٹیکس معطل کردیے تھے۔

تاہم رواں برس فروری میں حکومت کی جانب سے ریونیو شارٹ فال اور بجٹ کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے کوئی نئے ٹیکس کے نفاذ کے بجائے موبائل فون کارڈ پر ٹیکسز کی بحالی کے لیے ایک متبادل فارمولا سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے 27 مارچ کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے گزشتہ ایک برس میں موبائل فون کمپنیوں سے وصول کیے گیے ٹیکس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔