بیٹے کو حادثے میں بچانے والی ماں 28 برس بعد کومے سے بیدار

24 اپريل 2019

ای میل

حادثے کے وقت منیرہ عبداللہ کی عمر 32 برس تھی—بشکریہ شٹراسٹاک
حادثے کے وقت منیرہ عبداللہ کی عمر 32 برس تھی—بشکریہ شٹراسٹاک

جرمنی کے ہسپتال میں زیرعلاج خاتون 28 سال بعد معجزانہ طور پر کومے سے بیدار ہوگئیں۔

دی انٹیپینڈنٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق منیرہ عبداللہ کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ہسپتال سے 2017 میں ہی جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرزمینِ معجزات

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’یو اے ای میں 1991 کے درمیانی عرصے میں ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں منیرہ عبداللہ کومے میں چلی گئی تھیں‘۔

علاوہ ازیں حادثے کے وقت منیرہ عبداللہ کی عمر 32 برس تھی اور وہ اپنے بیٹے کو عمر کو اسکول واپس لے کر آرہی تھی کہ بس سے ٹکر ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کے دماغ پر شدید چوٹیں آئیں۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق منیرہ عبداللہ اپنے 4 سالہ بیٹے عمر کے ہمراہ پچھلی نشست پر بیٹھی تھی اور حادثے کے وقت انہوں نے اپنے بیٹے کو گود میں سمیٹ لیا تھا۔

منیرہ عبداللہ کے بیٹے عمر نے دی نیشنل نیوز پیپر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی کیونکہ مجھے ہمیشہ سے یقین تھا کہ وہ ایک دن زور کومے سے بیدار ہوں گی‘۔

مزیدپڑھیں: دنیا کے پہلے ’القرآن پارک‘ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا

رپورٹ کے مطابق عمر نے بتایا کہ 2017 میں ابوظہبی کے حکمران محمد زاید نے جرمنی میں منیرہ عبداللہ کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی اور انہیں جرمنی کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’جرمنی کے ہسپتال میں ان کی والدہ کی طبیعت میں کچھ مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی‘۔

عمر نے انکشاف کیا کہ ’ہسپتال کے کمرے میں معمولی جھگڑے کے شور سے والدہ بیدار ہوئیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’والدہ نے نحیف سی آوازیں نکالی لیکن ڈاکٹروں نے نارمل لیا لیکن تین دن بعد معجزہ ہوا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’کسی کے پکارنے پر میں نیند سے بیدار ہوا، وہ والدہ تھیں، وہ میرا نام پکار رہی تھیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ساحلی پٹی: سلسلہِ کُن فیکون

عمر نے بتایا کہ ’میں خوشی سے نہال تھا، اس لمحہ کے لیے کئی برس انتظار کیا، انہوں نے میرا نام سب سے پہلے لیا‘۔ رپورٹ کے مطابق ’منیرہ عبداللہ کی صحت بتدریج بہتر ہورہی ہے اور اب وہ قرآنی آیات پڑھ، لوگوں سے باتیں کرسکتی ہیں‘۔

کومے سے بیداری کے بعد منیرہ عبداللہ اہلخانہ کے پاس ابوظہبی آگئی ہیں۔