امریکا کی میانمار میں صحافیوں کے خلاف عدالتی فیصلے پر تنقید

اپ ڈیٹ 25 اپريل 2019

ای میل

‘صحافیوں کے خلاف مقدمات میں شفافیت کا فقدان ہے‘—فوٹو: اے ایف پی
‘صحافیوں کے خلاف مقدمات میں شفافیت کا فقدان ہے‘—فوٹو: اے ایف پی

امریکا نے میانمار کی عدالت کی جانب سے 2 صحافیوں کے خلاف فیصلے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ 24 اپریل کو میانمار کی سپریم کورٹ نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے 2 صحافیوں کی 7 برس قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کردی تھی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن نے میانمار میں آزادی اظہار کی صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا اور زور دیا کہ ’میانمار حکومت دونوں صحافیوں کو ان کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دے‘۔

مزیدپڑھیں: میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، اقوام متحدہ

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ میانمار کی سپریم کورٹ نے پلٹزر پرائز یافتہ دو صحافیوں کو 7 برس قید کی سزا برقرار رکھی جبکہ ان کے خلاف مقدمات میں شدید عدم شفافیت نظر آتی ہے‘۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’صحافیوں کو پابند سلاسل کرنے سے آزادی اظہار اور برما کے صحافیوں کو تحفظ سے متعلق حکومت کا منفی رویہ سامنے آیا ہے‘۔

خیال رہے کہ اعلامیے میں واشنگٹن کی جانب سے ’میانمار‘ کے بجائے ملک کا پرانا نام ’برما‘ استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ کا میانمار مظالم کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

امریکی حکام نے کہا کہ ’ہم برما پر زور دیتے ہیں کہ مشکل سے حاصل ہونے والی آزادی کے تحفظ کو یقینی اور جمہوری مفاد کے تشخص کو محفوظ بنائے‘۔

اعلامیے میں زیر حراست دونوں صحافیوں کو ان کے اہل خانہ کے پاس جانے کی اجازت دینے کے لیے زور دیا گیا۔

واضح رہے کہ 31 سالہ وا لون اور 27 سالہ کیاؤ سو او عالمی خبر رساں ادارے کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فوجی کریک ڈاؤن پر رپورٹنگ کر رہے تھے جنہیں دسمبر 2017 میں ینگون میں پولیس کی جانب سے ایک عشائیے میں بلا کر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جہاں مقامی عدالت نے انہیں خفیہ معلومات سے متعلق (سیکریسی) قانون کے تحت پولیس ریمانڈ میں دے دیا تھا۔

مزیدپڑھیں: ’میانمار فوج روہنگیا خواتین کے ساتھ گینگ ریپ میں ملوث‘

عدالت میں وا لون کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے مجھ سے برا سلوک نہیں کیا ہے' جبکہ کیاؤ سو او نے دیگر صحافیوں کو ان کے بیان پر رپورٹ کرنے میں احتیاط برتنے کا کہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'صحافیوں کو بتایا جائے کہ احتیاط سے کام لیں کیونکہ یہ بہت خطرناک ہے اور ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے'۔

24 اپریل کو میانمار کی سپریم کورٹ نے صحافیوں کو 7 برس قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کردی تھی۔

یاد رہے کہ میانمار کی رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انتہائی ظلم کیا گیا تھا جس کو اقوام متحدہ نے ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے میانمار کی فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔