جعلی شادیوں کا ایک اور کیس، ایف آئی اے نے مزید 3 چینی باشندوں کو گرفتار کرلیا

ای میل

ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کی توقع کی جارہی ہے۔ — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کی توقع کی جارہی ہے۔ — فائل فوٹو/ اے ایف پی

ملک میں غیر ملکی باشندوں کی جانب سے جعلی شادیوں کے کیسز میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فیڈرل انویسٹی گیسن ایجنسی (ایف آئی اے) کے انسانی اسمگلنگ سیل نے کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت اسلام آباد سے 3 چینی پاشندوں سمیت 7 افراد کو گرفتار کرلیا۔

ایف آئی اے کے انسانی اسمگلنگ سیل نے اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے سربراہ سانگ چوانگ، سہولت کار ساجد اور رفیق حسین کو گرفتار کیا۔

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کامران علی نے بتایا کہ مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے، تحقیقاتی ادارے کے مطابق ملزمان کو درج مقدمہ نمبر 19/352 میں گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھین: جسم فروشی کیلئے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے والے 8 چینی شہری گرفتار

ایف آئی اے حکام کے مطابق صاحبہ گل اور بینش رشید نے ڈی جی ایف آئی اے کو شکایت کی تھی اور ان کی شکایت پر مقدمہ درج ہوا تھا جبکہ ڈی جی ایف آئی اے نے ڈائریکٹر فخر کو کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

تحقیقاتی ادارے نے خواتین کی نشاندہی پر 4 ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن میں 2 جوڑے بھی شامل تھے، ان کی شناخت گیونگ دا اور سائمہ مشتاق، فیسنگ بو اور صبا جہانگیر کے ناموں سے ہوئی۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار چینی باشندے خود کو مسلمان بتا کر پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے پاس مسلمان ہونے کا جعلی سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور باعث کے انسانی اعضا کو فروخت کیا جاتا تھا۔

ایف آئی اے کے انسانی اسمگلنگ سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر کامران علی کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کی توقع کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث چینی باشندے گرفتار

گذشتہ روز ایف آئی اے نے لاہور میں کارروائی کرکے جسم فروشی کے لیے پاکستانی لڑکیوں سے شادی رچانے والے 8 چینی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی ہدایت پر ایف آئی اے پنجاب کے ڈائریکٹر رستم چوہان نے کارروائیاں کیں اور لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل میو کی سربراہی میں ٹیم نے ڈیوائن ہومز میں کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت 8 چینی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ چینی شہری لاہور میں مقامی ایجنٹس کے ساتھ مل کر پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرتے تھے جس کے بعد ان لڑکیوں سے جسم فروشی کروائی جاتی تھی۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے اب تک اس اسکینڈل میں ملوث ایک درجن سے زائد چینی شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

لاہور سے گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت وانگ ہاؤ، شوئی شیلی، وانگ یزہو، چانگ شیل رائے، پن کھوا جے، وانگ باو، زوا تھی اور خاتون کین ڈس کے نام سے ہوئی تھی۔

قبل ازیں ایف آئی اے نے 2 مئی کو فیصل آباد سے 2 چینی باشندوں سمیت 4 افراد کو اسی طرح کے الزامات میں گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چینی نوجوان اور پاکستانی دوشیزہ کی روایتی انداز میں شادی

ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے پیپلز کالونی میں شادی کی تقریب پر چھاپہ مار کر ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن کے حوالے سے ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، جو لڑکیوں سے شادی کرکے انہیں چین لے جاتے ہیں اور وہاں ان سے جسم فروشی کروائی جاتی ہے۔

رستم چوہان کا کہنا تھا کہ تاحال یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ اس گینگ نے کتنی لڑکیوں کو چین بھیجا ہے یا اپنے جال میں پھنسا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

جعلی شادیوں میں ملوث ملزمان فیصل آباد منتقل

دوسری جانب ایف آئی اے نے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیوں کے الزام میں گرفتار چینی باشندوں سمیت تمام ملزموں کو فیصل آباد منتقل کردیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے فیصل آباد کی مقامی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی مشترکہ ٹیم نے کی تھی اور اس کی ایف آئی آر بھی فیصل آباد میں درج ہے جبکہ اس حوالے سے لاہور کی مقامی عدالت کا آگاہ کردیا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے نے ایک جاری بیان میں غیر قانونی شادیوں کے حوالے سے رپورٹس کی مذمت کی تھی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'چین، پاکستان کی حکومت اور قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی شادیوں میں ملوث افراد کو تلاش کررہا ہے'۔

چینی سفارت خانے نے ان رپورٹس کو مسترد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی خواتین کو ان کے اعضا نکال کر فروخت کرنے کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے، سفارت خانے نے ان الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے چینی باشندوں کے پاکستانی لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی۔

سینیٹر رحمٰن ملک نے ایک جاری بیان میں کہا کہ رپورٹ ہے کہ چینی باشندے پاکستانی میرج بیور اور ایجنٹس سے مل کر پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادی کرتے ہیں، وزارت داخلہ 3 دنوں کے اندر چینی باشندوں کا پاکستانی لڑکیوں کے اسمگلنگ پر رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹس ہیں کہ شادی کے بعد پاکستانی لڑکیوں سے جسم فروشی کروائی جاتی تھی یا ان کے اعضا نکالے جاتے تھے، انہوں نے کہا کہ ملوث چینی باشندوں، مقامی میرج بیور اور ایجنٹس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔