مسلم لیگ کے رہنما امیر مقام کے صاحبزادے کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

ای میل

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

پشاور کی مقامی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام کے صاحبزادے اشتیاق امیر کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کردیا۔

ایف آئی اے حکام نے اشتیاق امیر سمیت 5 ملزمان کو انسداد بدعنوانی کی عدالت میں پیش کیا، دوران سماعت ملزمان نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کی جانب سے جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔

جس پر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان ایک سال کا منصوبہ 10 سال میں بھی مکمل کرنے میں ناکام رہے جبکہ خزانے کو 2 ارب روپے کا نقصان بھی پہنچایا۔

ایف آئی اے حکام نے عدالت سے ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی تھی۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام: امیر مقام نیب کے سامنے پیش

بعد ازاں عدالت نے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور انہیں ایف آئی اے حکام کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے۔

خیال رہے کہ ملزمان پر ضلع شانگلہ میں الپوری روڈ تعمیر کے دوران مبینہ کرپشن کا الزام ہے۔

ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق ملزمان سے 62 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ریکوری کی بھی تجویز زیر غور ہے۔

یاد رہے کہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ امیر مقام کی کمپنی کو 85 کروڑ روپے میں ایک سال کے عرصے میں مکمل کرنا تھا لیکن منصوبہ 10 سال بعد بھی نا مکمل ہے جبکہ اس کا تخمینہ 2 سو 80 کروڑ روپے تجاوز کر چکا ہے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے اشتیاق امیر کی گرفتاری کے خلاف آج (منگل) پشاور میں ایف آئی اے کے دفتر اور انسداد بدعنوانی کی عدالت کے سامنے احتجاج کیا۔

اس سے قبل ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ روز ایف آئی اے کے شعبہ انسداد بد عنوانی نے خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر امیر مقام کے صحبزادے اور 4 کونٹریکٹرز کو گرفتار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے مذکورہ گرفتاریاں ضلع شانگلہ میں الپوری-بیشام روڈ کی تعمیرات میں حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے پر کیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق امیر مقام کے صاحبزادے اشتیاق احمد اور ان کے والد کی کمپنی کے ڈائریکٹر اور دیگر کو تفتیش کے لیے ایجنسی کے دفتر طلب کیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں گرفتار کرلیا گیا۔

گرفتار کیے جانے والے دیگر افراد کی شناخت سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد اشفاق، ریزیڈنٹ انجینئر ایسوسی ایٹڈ کلنسلٹنگ انجینئرز (اے سی ای) محمد ایاز، ریزیڈنٹ انجینئر اے سی ای محمد ارشد اور محمد ارشد اینڈ کمپنی کے اٹارنی ہولڈر محمد علی کے ناموں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو امیر مقام کی گرفتاری سے روک دیا

ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ کیس میں نامزد دیگر افراد میں سابق جنرل منیجر فار ایشین ڈیولپمنٹ بینک پروجیکٹ میاں محمد اصغر، منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر حبیب الرحمٰن اور محمد سعید ساندھو شامل ہیں، حکام نے بتایا کہ انہیں بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

بد عنوانی سے متعلق درج ایف آئی آر کے مطابق وزارت مواصلات نے نومبر 2018 میں ایجنسی سے رابطہ کیا تھا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کے اندراج کی درخواست کی تھی۔