سندھ حکومت پھر کہے گی، پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں؟ سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 16 مئ 2019

ای میل

سپریم کورٹ نے 23 مئی کو چیف سیکریٹری سندھ کو بیان قلمبند کروانے کے لیے طلب کرلیا  — فائل فوٹو/ ویکیپیڈیا
سپریم کورٹ نے 23 مئی کو چیف سیکریٹری سندھ کو بیان قلمبند کروانے کے لیے طلب کرلیا — فائل فوٹو/ ویکیپیڈیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت میں عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا اور جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے پھر سندھ حکومت کہے گی کہ پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں؟

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا اور ساتھ ہی عدالت نے نئی گج ڈیم تعمیر سے متعلق چیف سیکریٹری سندھ کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا نئی گج ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم

دوران سماعت جسٹس عظمت سعید کے استفسار پر بتایا گیا کہ نئی گج ڈیم ضلع دادو میں بنے گا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکریٹری دادو کی زمین سیراب کرنے اور عوام کو پانی کی ضرورت نہیں سے متعلق بیان دے دیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت، جن اضلاع اور افراد کی زمینیں سیراب کرنا چاہتی ہے، اس کے بارے میں ہمیں معلوم ہے، کیا سندھ حکومت یہی چاہتی ہے کہ عدالت میں نام لیے جائیں، سندھ حکومت چاہتی ہے کہ باقی عوام چاہے مر جائے فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ سندھ والوں کو پانی نہیں چاہیے تو ان کی مرضی، چیف سیکریٹری کے بیان کے بعد عدالت اپنے احکامات پر نظرثانی کرسکتی ہے، ممکن ہے کہ ڈیم تعمیر کے حکم پر بھی نظرثانی کرلیں، عدالت اب خود کوئی بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نئی گج ڈیم کی تعمیر میں تاخیر: ’کھانچے مارنے کیلئے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں‘

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نئی گج ڈیم منصوبہ 26 ارب کا تھا، جو 46 ارب تک پہنچ چکا ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت ایکنک کا فیصلہ بھی تسلیم نہیں کر رہی، ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، پھر سندھ حکومت کہے گی کہ پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں؟

عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

5 مارچ کو سپریم کورٹ نے نئی گج ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیتے ہوئے وفاقی اور سندھ حکومت کو واپڈا کو فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

نئی گج ڈیم کی تعمیر کیس

یاد رہے کہ نئی گج ایک ہل ٹورینٹ (پانی کا ماخذ) ہے جو بلوچستان کے خضدار ضلع سے نکلتا ہے اور کچ کے میدانی علاقوں سے گزرنے کے بعد یہ بالآخر منچھر جھیل میں داخل ہوتا ہے، نئی گج کا علاقہ 8 ماہ کے لیے خشک رہتا ہے جبکہ مون سون کے سیزن کے دوران 4 ماہ یہاں پانی رہتا ہے۔

منچھر جھیل کے اپنی حد پر پہنچنے اور مون سون سیزن میں میں مزید پانی حاصل کرنے کی پوزیشن نہ ہونے پر نئی گج سے بہنے والا پانی عمومی طور پر سیلاب کے تحفظ کے لیے باندھے گئے بند کو تباہ کرتا ہوا زرعی زمین کو زیر آب لے آتا ہے۔

مزید پڑھیں: خواہش تھی نئی گج ڈیم کی تعمیر کا معاملہ میرے ہوتے ہوئے حل ہو، چیف جسٹس

درخواست میں کہا گیا کہ زرعی زمین کے زیر آب آنے، گھروں کے تباہ ہونے اور کھڑی فصلوں کو نقصان پنچانے کے بعد مون سون کا پانی سمندر میں گرتا ہے اور ایسا کرنے سے بڑی تعداد میں پانی ضائع ہوتا ہے۔

اسی بات کو دیکھتے ہوئے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے نئی گج ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا اور 25 اپریل 2012 میں سندھ کے ضلع دادو میں نئی گج ڈیم کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

اس منصوبے کو اپریل 2015 تک مکمل ہونا تھا لیکن غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے یہ اب تک مکمل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے اس ڈیم کی لاگت کا تخمینہ بھی بڑھ گیا ہے، جسے کم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے اتفاق سے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔