آمدن میں اضافہ نہ ہوسکا، مالی خسارہ 5 فیصد، معیشت شدید مشکلات کا شکار

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

اعداد و شمار کی مایوس کن صورتحال سے حکومت پر ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے مزید دباؤ بڑھے گا—گراف بشکریہ وزارت خزانہ
اعداد و شمار کی مایوس کن صورتحال سے حکومت پر ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے مزید دباؤ بڑھے گا—گراف بشکریہ وزارت خزانہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی سال جہاں ملک کا مالی خسارہ اخراجات کے گزشتہ ریکارڈ ٹوٹنے پر ابتدائی 3 سہ ماہی (جولائی تا مارچ) کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک جاپہنچا ہے وہیں آمدنی (ریونیو) کی کارکرددگی تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ خسارے کی تفصیلات کے مطابق 9 ماہ کے عرصے میں ملک کا مجموعی خسارہ 19 کھرب 22 روپے تک پہنچ چکا ہے جو ایک دہائی جے عرصے میں تین سہہ ماہیوں کا بلند ترین خسارہ ہے جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کیا گیا خسارہ 14 کھرب 80 ارب روپے تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اخراجات اور آمدنی کے بارے میں خسارے کے اشاریے خرابی کی نشاندہی کررہے ہیں جس کے مطابق ایک جانب اخراجات قابو میں نہیں تو دوسری جانب ریونیو اکٹھا کرنے کی شرح کم ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر ایک ہفتے میں 9 روپے مہنگا ہوکر 154 کا ہوگیا

ان اعداد و شمار کی مایوس کن صورتحال سے حکومت پر ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے مزید دباؤ بڑھے گا اس کے ساتھ ساتھ جون میں آنے والے بجٹ میں اخراجات کو روکنے کا پختہ عزم بھی درکار ہوگا۔

مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2019 سے مارچ 2019 پر مشتمل تیسری سہ ماہی کے دوران خسارے میں زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 9کھرب روپے یعنی جی ڈی پی کا 2.3 فیصد رہا۔

یہ رقم ابتدائی 2 سہ ماہیوں، جولائی سے جنوری، کے مجموعی خسارے سے ذرا سی ہی کم ہے جب مجموعی خسارہ 10 کھرب 2 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کا 2.7 فیصد تھا اور ترقیاتی اخراجات میں 34 فیصد کمی کے باوجود اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیں: اصلاحات پروگرام: ٹیکس، جی ڈی پی تناسب 17 فیصد کرنے کا ہدف طے

خیال رہے کہ سال 2000 کے بعد اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ خسارہ مالی سال 13-2012 کے دوران 8 فیصد تھا لیکن اُس سال بھی 9 ماہ کے دوران ریونیو اور اخراجات کا فرق جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تھا۔

9 ماہ کے عرصے میں مارک اپ ادائیگیاں جی ڈی پی کی 3.8 فیصد رہیں جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہیں جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران یہ 3.4 فیصد تھیں، یوں اس برس مارک اپ ادائیگیوں کے لیے 14 کھرب 59 ارب روپے خرچ ہوئے جو گزشتہ برس 11 کھرب 72 ارب روپے تھی۔

دوسری جانب شرح سود تقریباً دگنی ہوچکی اور روپے کی قدر میں خاصی کمی آچکی ہے اس صورتحال کے باعث حکومت کے لیے تازہ قرضوں میں مارک اپ کی لاگت بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 12.25 فیصد کردی گئی

اسی طرح تیسری سہ ماہی کے دوران دفاعی اخراجات میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 9 ماہ کے عرصے میں جی ڈی پی کے 2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 11 سال کے عرصے میں کبھی پورے سال کے لیے بھی 1.9 فیصد سے آگے نہیں بڑھا تھا۔

یوں جولائی سے مارچ کے عرصے میں گزشتہ برس سے اب تک دفاعی اخراجات 24.1 فیصد بڑھ کر 7 کھرب 74 ارب 80 کروڑ روپے ہوچکے ہیں جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 6 کھرب 23 ارب 80 کروڑ روپے تھے۔

اس طرح ریونیو کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا جو حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے جو مارچ 2019 تک 30 کھرب 58 ارب 30 کروڑ روپے رہی جو گزشتہ برس بھی 30 کھرب 58 ارب 2 کروڑ روپے تھی لیکن رواں برس یہ جی ڈی پی کا 9.3 فیصد رہا جبکہ گزشتہ برس 10.4 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ رواں مالی سال: محصولات کی وصولی 3 فیصد معمولی اضافے کے باوجود ہدف سے دور

ٹیکس کے علاوہ ہونے والی آمدنی کا حجم گزشتہ برس کے 5 کھرب 6 ارب روپے کے مقابلے اس برس کافی کام یعنی 4 کھرب 21 ارب 60 کروڑ روپے رہا، یوں اس آمدنی کی شرح 09-2008 کے بعد سے کم ترین آگئی اور یہ جی ڈی پی کا 1.1 فیصد حصہ رہا جو گزشتہ عرصے 1.5 فیصد تھا۔

دوسری جانب موجودہ اخراجات 09-2008 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ اور جی ڈی پی کا 12.5 فیصد ہیں جو گزشتہ برس 40 کھرب 7 ارب 50 کروڑ کے مقابلے میں اس سال 40 کھرب 79 ارب 90 کروڑ روپے ہیں۔