کیا آپ بھی ورلڈ کپ جیت کر پاکستان کے وزیر اعظم بنیں گے؟ سرفراز سے سوال

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اپنی مہم کا آغاز 31مئی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے کرے گی— فوٹو: اے ایف پی
ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اپنی مہم کا آغاز 31مئی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے کرے گی— فوٹو: اے ایف پی

لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے نے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کو اعزاز قرار دیتے ہوئے 1992 کے ورلڈ کپ تاریخ دہرانے کا عزم ظاہر کردیا۔

جمعرات کولندن میں آئی سی سی ورلڈ کپ میں شریک تمام 10 ٹیموں کے کپتانوں کی پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں صحافیوں، کمنٹیٹرز اور شائقین نے کھلاڑیوں سے سوالات کیے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ٹیم متوازن ہے، اب خراب کارکردگی کا کوئی جواز نہیں، آفریدی

اس دوران سرفراز احمد سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ بھی ورلڈ کپ جیت کر عمران خان کی طرح وزیر اعظم بننا چاہیں گے؟۔

اس سوال پر سرفراز احمد سمیت وہاں موجود تمام کپتانوں نے قہقہہ لگایا اور پھر قومی ٹیم کے کپتان نے جواب دیا کہ ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت میرے لیے اعزاز سے کم نہیں اور میری خواہش ہے کہ ہماری ٹیم 1992 کی تاریخ دہرائے لیکن عمران خان کی طرح مستقبل میں کیا میں بھی وزیر اعظم بنوں گا اس کے بارے میں مجھے نہیں پتہ۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں 0-4 کی شکست سے ٹیم کے موارل پر کوئی فرق پڑے گا؟ تو سرفراز نے جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں سوچتے، ٹیم سے انہیں مثبت اور بہترین کارکردگی کی توقع ہے، ہاں کھیل میں ہار جیت کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ کے لیے 500 رنز کا اسکور کارڈ تیار

ٹیم میں وہاب ریاض اور محمد عامر کی شمولیت کے سوال پر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ وہاب ریاض کی رفتار سے ہم فائدہ اٹھانا چاہیں گے جبکہ عامر کی شمولیت سے یقینا باؤلنگ اٹیک کو تقویت ملے گی۔

قومی ٹیم کے کپتان نے ہیپاٹائٹس کا شکار ہو کر حال ہی میں صحتیاب ہونے والے لیگ اسپنر شاداب خان کی بھی ٹیم میں شمولیت کو باعث اطمینان قرار دیا۔

اپنی کارکردگی اور بیٹنگ آرڈر کے بارے میں سوال پر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ان کا نمبر پانچواں ہے، ہاں صورت حال کے مطابق اس میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔