جب ایک بچے کے سوال نے تمام کپتانوں کو سر کھجانے پر مجبور کردیا

اپ ڈیٹ 24 مئ 2019

ای میل

تقریب میں تمام 10 ٹیموں کے کپتان شریک ہوئے— فوٹو: اے ایف پی
تقریب میں تمام 10 ٹیموں کے کپتان شریک ہوئے— فوٹو: اے ایف پی

ورلڈ کپ سے قبل تمام ٹیموں کے کپتانوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں اس وقت دلچسپ مناظر دیکھنے کو ملے جب ایک بچے کے سوال نے تمام 10 ٹیموں کے کپتانوں کو حیران پریشان کردیا۔

گزشتہ روز لندن میں عالمی کپ کی ٹرافی کے ہمراہ ایونٹ میں شریک تمام ٹیموں کے کپتان شریک ہوئے اور انہوں نے اس پریس کانفرنس نما تقریب میں اپنی ٹیموں سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔

اس دوران ایک بچے نے ان کپتانوں نے ایک سوال کیا جس پر تمام ہی ٹیموں کے کپتانوں نے قہقہہ تو لگایا لیکن وہ تھوڑی دیر کے لیے پریشان نظر آئے۔

بچے نے تمام کپتانوں سے پوچھا کہ اگر انہیں اپنی ٹیم میں کسی دوسری ٹیم کے کھلاڑی کو شامل کرنے کا موقع ملے تو وہ کون سا کھلاڑی ہوگا؟

مزید پڑھیں: کیا آپ بھی ورلڈ کپ جیت کر پاکستان کے وزیر اعظم بنیں گے؟ سرفراز سے سوال

انگلینڈ سمیت اکثر ٹیموں کے کپتانوں کے لیے یہ سوال کسی باؤنسر سے کم نہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ چند نے اس باؤنسر پر 'ڈک' کرنے کو ترجیح دی۔

آئن مورگن نے کہا کہ اگر مجھے موقع ملتا تو میں رکی پونٹنگ کو چُنتا، یاد رہے کہ سابق آسٹریلین کپتان پونٹنگ 7 سال قبل انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

مورگن کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے کوہلی نے جواب دیا کہ میں اے بی ڈی ویلیئرز کا انتخاب کرتا لیکن چونکہ وہ ریٹائر ہو چکے ہیں لہٰذا میں جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیو پلیسی کو منتخب کروں گا۔

اس دوران سب سے تیز رفتاری سے جواب دینے والوں میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد سرفہرست تھے جنہوں نے انگلینڈ کے جارح مزاج بلے باز جوز بٹلر کا انتخاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے اہلخانہ کو ساتھ رکھنے پر پابندی

تمام ٹیموں میں سب سے نوجوان کپتان 27 سالہ جیسن ہولڈر نے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا میری ٹیم میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں جبکہ ان کے افغان ہم منصب نے بھی ایسا ہی کیا۔

بنگلہ دیش کے کپتان مشرفی مرتضیٰ نے کہاکہ میں عالمی نمبر ایک بلے باز ویرات کوہلی کا انتخاب کروں گا جبکہ سری لنکن قائد دمتھ کرونا رتنے نے انگلش آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو منتخب کیا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے کہا کہ میں افغان اسپنر راشد خان کو اسکواڈ میں خوش آمدید کہوں گا جبکہ آسٹریلیا کے ایرون فنچ کی نظر کرم جنوبی افریقی فاسٹ باؤلر کگیسو ربادا پر آ کر ٹھہری۔

جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیو پلیسی نے کچھ دیر توقف کے بعد جواب دیا کہ میں ایک سے زائد کھلاڑیوں کا انتخاب کروں گا جن میں بھارت کے فاسٹ باؤلر جسپریت بمراہ اور آسٹریلیا کے پیٹ کمنز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ کا پہلا میچ 30 مئی کو میزبان انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جائے گا۔