‘میری بیٹی ہمیشہ میرے لیے حوصلہ اور قوت کا احساس رہے گی‘

25 مئ 2019

ای میل

میں دعا فاطمہ کو ایک جنگجو کی طرح یاد رکھنا چاہتا ہوں، آصف علی—فائل فوٹو: اے ایف پی
میں دعا فاطمہ کو ایک جنگجو کی طرح یاد رکھنا چاہتا ہوں، آصف علی—فائل فوٹو: اے ایف پی
میں دعا فاطمہ کو ایک جنگجو کی طرح یاد رکھنا چاہتا ہوں، آصف علی—فائل فوٹو: اے ایف پی
میں دعا فاطمہ کو ایک جنگجو کی طرح یاد رکھنا چاہتا ہوں، آصف علی—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بلے باز آصف علی اپنی کمسن بیٹی کی تدفین اور بعداز تدفین تمام امور نمٹانے کے بعد انگلینڈ میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ اسکورڈ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے لندن روانہ ہوگئے۔

آصف علی نے کہا کہ ’ان کی بیٹی ہمیشہ ان کے لیے حوصلہ افزائی اور قوت کا احساس رہے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹر آصف علی کی کینسر میں مبتلا بیٹی زندگی کی جنگ ہارگئی

خیال رہے کہ آصف علی کی 19 ماہ کی کینسر میں مبتلا کمسن بیٹی دعا فاطمہ علالت کے بعد امریکا میں دوران علاج انتقال کرگئیں تھی۔

دعا فاطمہ کو فیصل آباد میں مدفن کیا گیا تھا۔

27 سالہ آصف نے ٹوئٹ کیا کہ ’میں دعا فاطمہ کو ایک جنگجو کی طرح یاد رکھنا چاہتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ میرے لیے حوصلہ اور طاقت تھی، اس کی یادوں کے خوشگوار لمحات ساری زندگی میرے ساتھ رہیں گے‘۔

مزیدپڑھیں: ’آصف علی ہمارے لیے ایک مثال ہیں۔‘

آصف علی نے کہا کہ ’میں ایک مرتبہ پھر آپ سے اپنی پرنس دعا فاطمہ کے لیے دعا کی درخواست کرتا ہوں‘۔

خیال رہے کہ دورہ انگلینڈ کے دوران کچھ کھلاڑیوں کی مایوس کن پرفارمنس کی وجہ سے آصف علی کی ورلڈکپ 2019 کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں شمولیت کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

بلاشبہ پاکستان کو دورہ انگلینڈ کے دوران شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن بیٹنگ کے شعبے میں دیگر کھلاڑیوں سمیت آصف علی کی کارکردگی بھی اطمینان بخش رہی تھی اور انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔