قبائلی اضلاع کے لیے 152 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے

12 جون 2019

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں خبیر پختونخوا (کے پی) میں ضم ہونے والے نئے اضلاع میں زیر تکمیل اور دیگر ترقیاتی اخراجات کے لیے 152 فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔

وفاقی بجٹ پیش کرتےہوئے وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پی میں نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 152 ارب روپے فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کے لیے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی، یہ دس سالہ پیکیج ایک کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں مہیا کریں گے۔

بجٹ تقریر میں وزیر مملکت نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کے انضمام کے بعدسپلائز کے حوالے سے چھوٹ میں پانچ برس کی توسیع دی گئی تھی تاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھیں جس کے لیے تجویز ہے کہ صنعتی خام مال اور پلانٹ و مشینری کی درآمد پر بھی ٹیکس میں چھوٹ کو بھی ان علاقوں تک وسعت دی جائے۔

قبائلی اضلاع کو سہولیات دینے کا عزم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور 31 مئی 2018 سے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

انہوں نے واضح کہا کہ اس چھوٹ کا اطلاق ان علاقوں میں واقع اسٹیل ملز اور گھی کے کارخانوں پر ہوگا۔

حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) نے سرمائے کی کمی دور کرنے کے لیے گزشتہ برس کے 54 ارب روپے کے مقابلے میں 145 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے امداد اور فنڈز کے پروگرام شروع کیے گئے، بلین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پروگرام شروع کیے گئے۔

حماد اظہر نے کہا کہ سابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی حکومت نےمالی سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا جس میں خسارہ جی ڈی پی کا 7.2 فیصد یا 3151 ارب روپےسے زائد تجویز کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے آخری وقت میں فاٹا کے نام سے معروف قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کردیا گیا تھا، جس سے نہ صرف عدالتوں کا دائرہ کار ان علاقوں تک بڑھ گیا تھا بلکہ بجٹ میں بھی ان کا حصہ بڑھایا گیا تھا۔

سابق حکومت نے 19-2018 کے بجٹ میں سابق فاٹا کے لیے 24 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی تھی جبکہ ان علاقوں کے ضم ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی 100 ارب روپے دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد بھی سابق فاٹا پر خاص توجہ دی گئی اور وزیر اعظم عمران خان نے ان علاقوں کے لیے سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں کا دورہ بھی کیا اور وہاں عوام سے خطاب میں کہا کہ قبائلی علاقے میں ہمارے لوگ بے مثال ترقی دیکھیں گے، جس کے لیے حکومت کا قبائلی اضلاع میں 10 سال کے لیے سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے'۔

عمران خان نے کہا کہ 'ہم اپنے عزم کو پورا کر رہے ہیں، فاٹا کے لیے باجوڑ سے شروع ہونے والا10 سالہ ترقیاتی منصوبے پر 3 ہفتوں کا مشاورتی عمل ہوگا'۔

حکومت کی جانب سے نہ صرف قبائلی اضلاع کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کیا گیا بلکہ ان علاقوں کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کے لیے 26 ویں آئینی ترمیمی بل کو متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے منظور بھی کروایا گیا۔

اس کے علاوہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف 4 فیصد رکھتے ہوئے قبائلی اضلاع کے لیے بجٹ میں مختلف حصے مختص کرنے کی منظوری دی ہے۔

خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 24 ارب روپے جبکہ 13 ارب روپے معاشی اقدامات کے لیے مختص کیے جائیں گے، ساتھ ہی وزارت خزانہ کی جانب سے 100 ارب روپے خصوصی طور پر مختص کیے گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ داخلی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد (آئی ڈی پیز) اور سیکیورٹی کی بہتری کے لیے علیحدہ علیحدہ 32 ارب 50 کروڑ روپے، وزیراعظم یوتھ اسکل پروگرام کے لیے 10 ارب روپے اور درخت لگانے کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے۔

ساتھ ہی 10 سالہ خصوصی پروگرام کے لیے خیبرپختونخوا میں ضم سابق قبائلی اضلاع کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، یاد رہے کہ ان اضلاع میں ترقیاتی پروگرامز کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 46 ارب روپے بھی دیے جائیں گے۔