غیر ملکی قرضے ایک کھرب 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے

11 جون 2019

ای میل

مجموعی ادائیگیوں میں غیر ملکی قرضوں کا حصہ 3 ارب 10 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا — فائل فوٹو/رائٹرز
مجموعی ادائیگیوں میں غیر ملکی قرضوں کا حصہ 3 ارب 10 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا — فائل فوٹو/رائٹرز

کراچی: رواں مالی سال 19-2018 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران غیر ملکی قرضوں اور واجبات (ای ڈی ایل) میں 10 ارب 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس میں 74 ارب 20 کروڑ ڈالر کے سرکاری قرضے بھی شامل ہیں جو مارچ 2019 تک ایک کھرب 5 ارب 80 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مجموعی سرکاری قرضوں کی ادائیگی میں دو طرفہ ذرائع سے کی جانے والی ادائگیاں سب سے زیادہ یعنی 48 فیصد یا 4 ارب 40 ہزار ڈالر رہیں۔

سروے میں کہا گیا کہ مجموعی 2 طرفہ ادائیگیوں میں چین کی جانب سے ہونے والی ادائیگیاں 3 ارب 88 کروڑ 50 لاکھ ڈالر یا کل رقم کا 97 فیصد رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال کیلئے 18 کھرب 30 ارب روپے کے اخراجات منظور، 300 ترقیاتی منصوبے شامل

حکومت نئی بین الاقوامی منڈیوں کی جانب توجہ دینے کے ساتھ ساتھ صرف ریاست سے ادھار لینے کے بجائے عالمی بانڈ پروگرام متعارف کروانے پر غور کررہی ہے۔

اس سے سرمایہ کاری میں اضافے اور ادھار کی لاگت میں کمی کی توقع کے ساتھ ساتھ حکومت کو انہیں جاری کرنے کے وقت کا اختیار حاصل ہوگا بلکہ قرضوں کی منتقلی میں صرف ہونے والے وقت کی بھی بچت ہوگی، تاہم حکومت ترقیاتی مقاصد کے لیے طویل مدتی رعایتی قرضے لیتی رہیں گی۔

اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران بیرونی سرکاری قرضوں میں تقریباً 3 ارب 90 کروڑ ڈالر تک کا اضافہ ہوا جبکہ گذشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران یہ اضافہ 6 ارب 70 کروڑ ڈالر تھا۔

مزید پڑھیں: آمدن میں اضافہ نہ ہوسکا، مالی خسارہ 5 فیصد، معیشت شدید مشکلات کا شکار

پاکستان کے غیر ملکی قرضوں اور واجبات (ای ڈی ایل) میں سرکاری و نجی شعبوں کے لیے کیے گئے تمام غیر ملکی قرضوں کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے واجبات شامل ہیں۔

ای ڈی ایل میں حکومت کا حصہ قرضوں پر مشتمل ہے جو مشترکہ فنڈز اور عالمی مالیاتی فنڈز پر منحصر ہے جبکہ دیگر میں مرکزی بینک کے واجبات، سرکاری و نجی اداروں اور بینکس کے قرضے شامل ہیں۔

اس میں کمرشل ذرائع (غیر ملکی کمرشل بینکس اور یورو/سکوک بانڈز) سے لیا جانے والا ادھار گذشتہ چند سالوں میں کافی حد تک بڑھا ہے تاہم غیر ملکی قرضے زیادہ تر کثیر اور دو طرفہ ذرائع پر مشتمل ہیں جو مارچ 2019 تک بیرونی سرکاری قرضوں کا 78 فیصد تک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں محصولات کی وصولی میں ریکارڈ کمی

اس طرح مجموعی ادائیگیوں میں غیر ملکی قرضوں کا حصہ 3 ارب 10 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا، یہ کمرشل قرضے بنیادی طور پر ادائیگیوں میں توازن قائم کرنے کے لیے حاصل کیے گئے تھے جس میں حکومت نے مختلف ذرائع سے ایک ارب 15 کروڑ ڈالر توانائی اور تعمیراتی منصوبوں کے متحرک کرنے میں صرف کیے۔

علاوہ ازیں بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ کے لحاظ سے جون 2018 تک مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح میں بیرونی قرضوں میں 22.3 فیصد کا اضافہ ہوا جو سال 2017 کے اسی عرصے کے دوران 20.5 فیصد تھے۔

جس کے بعد مارچ 2019 میں اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور یہ 25.8 فیصد تک جا پہنچے، غیر ملکی قرضوں میں اضافے کے علاوہ امریکی ڈالر کے تناظر میں جی ڈی پی کے حجم میں کمی نے اس شرح کے بلند ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔