شاہ زیب قتل: شاہ رخ جتوئی کی سپریم کورٹ سے سزا کالعدم قرار دینے کی درخواست

ای میل

ٹرائل کورٹ نے مقدمے میں شاہ رخ جتوئی کو سزائے موت جبکہ ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردی تھی — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ٹرائل کورٹ نے مقدمے میں شاہ رخ جتوئی کو سزائے موت جبکہ ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردی تھی — فائل فوٹو/ اے ایف پی

شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی کردار شاہ رخ جتوئی نے سپریم کورٹ سے سزا کے خلاف رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ذاتی جھگڑے پر مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگ سکتیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ قتل اور دہشت گردی کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہی۔

سپریم کورٹ میں دائر حالیہ درخواست میں شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی نے موقف اپنایا کہ 2 افراد کے ذاتی جھگڑے پر دہشت گردی کی دفعات عائد نہیں ہوسکتیں۔

مزید پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

سپریم کورٹ میں عمرقید اور جرمانہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ہر قتل دہشت گردی نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے میں شاہ رخ جتوئی کو سزائے موت جبکہ ہائیکورٹ نے سزا عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔

شاہ زیب قتل کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ 20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو دسمبر 2012 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مقدمے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا۔

بعد ازاں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 30 جون 2013 کو شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ: شاہ زیب قتل کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

مجرموں نے 2013 میں ہی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

عدالت کی جانب سے سزائے موت سنانے کے چند ماہ بعد شاہ زیب کے والدین نے معافی نامہ جاری کردیا تھا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے منظور کیا تھا۔

شاہ زیب کے والدین کی جانب سے معافی نامہ جاری کرنے کے بعد سزائے موت دہشت گردی کی دفعات کے باعث برقرار تھی تاہم 11 نومبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ تفتیش کا حکم جاری کردیا تھا۔

30 دسمبر کو سیشن کورٹ نے شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر مجرموں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

یاد رہے کہ 26 دسمبر 2017 کو وکلا، انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر اور کراچی کے دیگر شہریوں نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں کے مقدمے کو سیشن عدالت بھیجنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف شاہ رخ جتوئی کی نظرثانی اپیل

سپریم کورٹ نے یکم فروری 2018 کو شاہ زیب قتل کیس میں متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی سمیت 3 مجرموں کو دی جانے والی ضمانت اور مذکورہ کیس دوبارہ سول عدالت میں چلانے کا فیصلہ معطل کرکے مجرموں کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پولیس کو مجرموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے تینوں مجرموں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک مجرموں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم بھی دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نذر اکبر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مجرموں کے خلاف کیس کی سماعت کی تھی اور 11 مارچ کو فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

13 مئی 2019 کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عالیہ نے 2 مجرموں، شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور، کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا جبکہ عدالت عالیہ نے کیسز میں نامزد دیگر 2 مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک وکیل مقرر کرنے کی ہدایت

بعد ازاں عدالت عالیہ نے شاہ زیب قتل کیس کا 63 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق عدالت نے ملزمان اور مقتول کے ورثا کے درمیان ہونے والا صلح نامہ منظور کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ عدالت نے شاہ زیب کے قتل میں ملزم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزا صلح نامے کی بنیاد پر ختم کی۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی سزا ناقابل معافی ہے لٰہذا سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں عدالت عالیہ نے شاہ رخ جتوئی کی عمر کے تعین کے حوالے سے دائر اپیل بھی مسترد کردی تھی۔