بھارت نے پاکستان سے ’مذاکرات پر آمادگی‘ کی تردید کردی

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع اور ازسرنو مذاکرات کی بات کی — فائل فوٹو/اے ایف پی
بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع اور ازسرنو مذاکرات کی بات کی — فائل فوٹو/اے ایف پی

بھارت نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کردی ہے جس میں کہا جارہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے پیغامات کے جواب میں مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرلیا ہے۔

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں مذاکرات کے حوالے سے آمادگی ظاہر کرنے کی رپورٹس کی تردید کی۔

بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس سلسلے میں کیے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’مروجہ سفارتی روایت کے تحت وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات کا جواب دیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے جوابی خط میں لکھا کہ ’دہشت، تشدد اور عداوت سے پاک اعتماد کی فضا قائم کرنا نہایت ضروری ہے‘ اور وزیر خارجہ نے بھی تشدد اور دہشت کے سایے سے محفوظ ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔

جس پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان خطوط میں مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات کی گئی تو ترجمان دفتر خارجہ نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی میں اسرائیل کا بھی ہاتھ ہے

قبل ازیں پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن اور تمام تصفیہ طلب امور پر مذاکرات کی پیش کش پر بالآخر بھارت نے آمادگی ظاہر کردی۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق اس مثبت رد عمل کا اظہار بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سبراہمنیام جے شنکر کی جانب سے پاکستانی قیادت کو لکھے گئے خط میں کیا گیا۔

رواں ماہ کے اوائل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے اور انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہم منصب کو خط ارسال کیا تھا جس میں مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا نریندر مودی کو فون، انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد

اپنے خط میں وزیراعظم نے پیشکش کی تھی کہ خطے میں قیامِ امن کے لیے جموں کشمیر اور دہشت گردی سمیت دونوں ممالک کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک خط کے ذریعے نو منتخب وزیر خارجہ سبراہمنیام جے شنکر کو منصب سنبھالنے پر انہیں مبارکباد پیش کی تھی۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق منگل کے روز پاکستان کو سفارتی راستوں کے ذریعے بھارتی خطوط موصول ہوئے، جس میں پاکستان کی پیشکش پر مثبت ردِ عمل اور مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

جوابی خطوط میں بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع اور ازسرنو مذاکرات کی بات کی تھی۔

خط میں بتایا گیا کہ بھارت خطے میں امن اور ترقی چاہتا ہے اور اس کے لیے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کا خواہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک مرتبہ پھر بھارت کو تمام تصفیہ طلب امور پر مذاکرات کی پیشکش

بھارتی حکام کے خطوط میں کہا گیا کہ بھارت نے ہمیشہ عوام کی ترقی اور امن کو ترجیح دی ہے اور اس سلسلے پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور بات چیت میں دہشت گردی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق بھارتی حکام نے ’خطے میں امن و ترقی کے لیے پاکستان کے جذبے کو بھی سراہا‘۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کا جوابی خط میں کہنا تھا کہ ’دہشت، تشدد اور عداوت سے پاک اعتماد کی فضا قائم کرنا نہایت ضروری ہے‘۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا مودی کو خط، باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر زور

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ نے بھی تشدد اور دہشت کے سایے سے محفوظ ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔

مذکورہ خطوط گذشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کی بھارتی ہم منصب کے ساتھ شنگھائی تعاون تنطیم کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی براہ راست ملاقات کے بعد موصول ہوئے۔

جس کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے مابین شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں سائیڈ لائن ملاقات اور مصافحہ ہوا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس اقتدار سنبھالتے ہی وزیراعظم عمران خان نے دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات معمول پرآنے کی امید ظاہر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس: وزیر اعظم سے نریندر مودی کی ملاقات اور مصافحہ

تاہم رواں برس فروری میں 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیرکے علاقے پلوامہ میں بھاری فوج کے قافلے پر خود کش حملے میں 40 سے زائد بھاری فوجی ہلاک ہوگئے تھے، بھارت نے اس کا الزام فوری طور پر پاکستان پر عائد کردیا تھا جس کی پاکستان نے تردید کی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی تھی جب بھارتی طیاروں نے بالاکوٹ کے علاقے میں دراندازی کی جس کے جواب میں پاک فضائیہ نے 2میگ 21 مار گرائے اور ایک بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی پکڑ لیا تھا جسے بعد ازاں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا بھی کردیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے متعدد مواقع پر ان خیالات کا اظہار کیا کہ بھارتی رہنما انتخابات میں عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالف بیانات دیتے ہیں۔

بعدازاں انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب کو فون کر کے مبارکباد بھی پیش کی تھی۔