امریکی ڈرون گرانے کا واقعہ: ایران نے بہت بڑی غلطی کی، ڈونلڈ ٹرمپ

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

یقین کرنا مشکل ہے ایران نے  یہ حملہ دانستہ طور پر کیا، ٹرمپ — فائل فوٹو/ رائٹرز
یقین کرنا مشکل ہے ایران نے یہ حملہ دانستہ طور پر کیا، ٹرمپ — فائل فوٹو/ رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے ردعمل میں کہا ہے کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران نے بہت بڑی غلطی کی‘۔

وائٹ ہاؤس میں ڈرون گرائے جانے کے واقعے سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لیے یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ حملہ دانستہ طور پر کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ کسی سے غلطی ہوئی جسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ امریکا، مشرق وسطیٰ میں جنگ نہیں چاہتا۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ رکن نے امریکی ڈرون مار گرانے کے واقعے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے انتظامیہ کے پاس ایران کے حوالے سے حکمت عملی نہ ہونے اور کانگریس اور امریکی عوام کو اندھیرے میں رکھنے کا الزام عائد کیا۔

نیویارک کے سینیٹر چک شومر نے کہا کہ ’صدر کو امریکی عوام کو وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ہمیں مشرق وسطیٰ میں نہ ختم ہونے والے تنازع کی جانب کیوں دھکیل رہے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ایران: پاسداران انقلاب کا امریکی جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

کانگریس کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ ٹرمپ، ایران کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امریکی عوام ایسا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط ہونے اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

ری پبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم نے ایران کو قاتل حکومت کہتے ہوئے تہران کو حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے کے ذریعے بھیجے گئے خط کا جواب دینے سے انکار کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی۔

سینیٹر نے کہا کہ نہ صرف ایران نے زبانی ردعمل دیا بلکہ اسی وقت جاپانی آئل ٹینکر پر بھی حملہ کیا۔

ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے امکانات سے متعلق انہوں نے کہا کہ امریکا واضح کرچکا ہے ایران کی جانب سے افزدوہ یورینیم کی سطح میں اضافے کو امریکا اور اسرائیل میں موجود ہمارے اتحادیوں کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا جس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی عدالت کا امریکا کو ایران سے پابندیاں ہٹانے کا حکم

انہو ں نے کہا کہ اگر امریکی فوج ردعمل ضروری ہے تو اس کی توجہ ایران کے بحری اثاثوں اور آئل ریفائنریز پرمرکوز ہوگی جو اس کی معیشت کا اہم ترین جزو ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی (پاسداران انقلاب) نے جنوبی ساحلی پٹی پر امریکی جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ کوہ مبارک نامی حصے میں ایرانی فضائیہ نے امریکی ساختہ گلوبل ہاک ڈرون کو ملک کی فضائی سرحد کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ آر کیو 4 گلوبل ہاک نامی امریکی ڈرون انتہائی بلندی پر 30 گھنٹے سے زائد محو پرواز رہ سکتا ہے۔

اس ڈرون میں نصب جدید آلات انتہائی خراب موسم میں بھی خطے میں ہونے والی کسی بھی نقل و حرکت کی بہترین عکس بندی کرسکتے ہیں۔

سینٹرل کمانڈ کی تصدیق

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی کہ ایرانی فورسز نے نگرانی پر مامور امریکی نیوی کے ڈرون آر کیو-4 گلوبل ہاک مار گرایا، تاہم ان کا کا اصرار ہے کہ ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں بلاوجہ نشانہ بنایا گیا۔

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نیوی کیپٹن بل اربن نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی فضائی حدود میں موجود ڈرون کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ گزشتہ شب 11 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا۔

مزید پڑھیں: خلیج عمان میں 2 تیل بردار بحری جہازوں پر ' حملہ '

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ایران کی جانب سے ڈرون ایران کی فضائی حدود میں ہونے کی خبر جھوٹی ہے‘۔

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق بین الاقوامی فضائی حدود میں امریکی اثاثے پر یہ حملہ بلاوجہ کیا گیا۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بھی ایران کی جانب سے ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ڈرون ایرانی نہیں بلکہ بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا۔

بعد ازاں پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے امریکی گولڈ ہاک ہائی ایلٹیٹیوڈ ڈرون کو آبنائے ہرمز پر نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈرون کے ایرانی فضائی حدود میں موجود ہونے کی رپورٹس جھوٹی ہیں۔

اسرائیل کا امریکا کی حمایت کا اعلان

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ تمام امن پسند ممالک سے ایرانی مداخلت روکنے کی امریکی کوششوں کی حمایت کی درخواست کرتے ہیں۔

نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ کے لیے منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ’گزشتہ 24 گھنٹے میں ایران نے امریکا اور ہم سب کے خلاف اشتعال کی شدت میں اضافہ کردیا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس موقع پر اسرائیل، امریکا اور اس کی فوج کے ساتھ کھڑا ہے‘۔

ایران کے خلاف امریکی اقدام سے تباہی پھیلے گی، پیوٹن

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سے تباہی پھیلے گی۔

پیوٹن نے روسی ناظرین کی جانب سے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’امریکا کہتا ہے کہ طاقت کا استعمال ختم نہیں کیا جاسکتا، یہ خطے کے لیے تباہی کا باعث بنے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے تشدد اور پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اس مداخلت کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔

روسی صدر نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ایران پر عائد کی گئی پابندیاں بے بنیاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'یو اے ای میں تخریب کاری کا نشانہ بننے والے 2 جہاز سعودی عرب کے ہیں'

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر تنازع میں شدت کے بعد تہران کو دباؤ میں لانے کے لیے خلیج فارس میں بی 52 بمبار سمیت متعدد طیارے اور جنگی بحری بیڑا اتارنے کے بعد اسالٹ شپ اور پیٹرائٹ میزائل دفاعی نظام تعینات کیے تھے۔

گذشتہ ایک ماہ کے اندر امریکا، مشرق وسطیٰ میں مرحلہ وار ڈھائی ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کرچکا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ مذکورہ اقدام کا مقصد ایران کو واضح اور غیر مبہم پیغام دینا ہے کہ اگر اس نے امریکا یا خطے میں اس کے کسی پارٹنر پر حملہ کیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کے ساحل پر 4 جہاز ’تخریب کاری کا نشانہ‘ بنائے گئے، حکام

اسی دوران خلیج عمان میں 4 تیل بردار جہازوں پر حملہ ہوا اور امریکا نے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔

واشنگٹن نے اپنے دعوے کے دفاع میں ایک ویڈیو بھی نشر کی جس میں پاسداران انقلاب کی ایک کشتی کو تیل بردار جہاز کے پاس دیکھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی الزام کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

گزشتہ ہفتے خلیج عمان میں ایک مرتبہ پھر 2 تیل برداروں پر حملہ کیا گیا تھا جس کا الزام بھی ایران پر عائد کیا گیا تھا۔