امریکا طالبان مذاکرات، غیر ملکی افواج کے انخلا پر زور

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

امریکا اور طالبان 18 سال سے جاری تنازعات کو مذاکرات سے ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکا اور طالبان 18 سال سے جاری تنازعات کو مذاکرات سے ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

کابل: امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذکرات کے آئندہ دور میں بات چیت کا محور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی پر رہے گی افغانستان کی سرزمین سے کوئی عسکری حملہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں متحارب گروہوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا ساتواں دور ہفتے کو ہوگا جس میں امریکا اور طالبان 18 سال سے جاری تنازعات کو مذاکرات سے ختم کرنے کی کوشش کریںگے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’ایک مرتبہ جب انخلا کی تاریخ کا اعلان ہوجائے تو بات چیت خود بخود اگلے دور میں داخل ہوجائے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’امریکا، طالبان مذاکرات میں دہشت گرد تنظیمیں سب سے بڑی رکاوٹ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمیں انخلا کا عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی دونوں چیزیں بات چیت اور انخلا ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گی‘۔

مذاکرات کا محور طالبان کی جانب سے امریکی اور دیگر افواج کے انخلا اور امریکا کی جانب سے طالبان کی اس ضمانت پر رہے گا کہ افغانستان کی سرزمین کو عسکری حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

دیگر دو معاملات میں جنگ بندی کا عمل اور افغان فریقین، حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین بات چیت ہونا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا-طالبان مذاکرات میں 'بڑی کامیابی' کا دعویٰ

دوسری جانب مئی میں ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور سے باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ بات چیت دونوں فریقین کے درمیان پر اختلافات پر ختم ہوئے لیکن اس وقت سے غیر رسمی ملاقاتوں میں ایسے قابلِ عمل نتیجے کی کوشش کی جارہی ہیں جس پر دونوں کا اتفاق ہو۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے بھی افغان قیادت کے ساتھ دوحہ میں غیر رسمی ملاقاتیں کیں، ٹوئٹر پر دیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’قطر اور افغانستان کے حالیہ دورے کی بنیاد پر مجھے یقین ہے کہ تمام فریقین تیز ترین پیش رفت کے خواہاں ہیں‘۔