قبائلی اضلاع کی تاریخ کے پہلے صوبائی انتخابات

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2019

ای میل

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ عام نشستوں پر 2 خواتین بھی امیدوار ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی
حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ عام نشستوں پر 2 خواتین بھی امیدوار ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع اور سابق فاٹا کے نام سے معروف علاقوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے میدان سج گیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کی ان 16 نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلے کی توقع ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے تمام نشتسوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ جمعیت علما اسلام(جے یو آئی ایف) نے 15، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 14 اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 13 نشتسوں سے انتخابات میں حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی اضلاع میں انتخابات: پولنگ اسٹیشنوں میں فوج تعینات ہوگی

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 5 امیدوار، جماعت اسلامی نے 13 اور قومی وطن پارٹی نے 3 نشستوں پر انتخاب میں حصہ لیا ہے جبکہ 20 جولائی کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے 202 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے زیادہ نشستیں جیتنے کا امکان ہے جبکہ کچھ حلقوں میں آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ عام نشستوں پر 2 خواتین بھی امیدوار ہیں جس میں حلقہ پی کے-106 (خیبر) سے اے این پی کی سماجی و سیاسی کارکن ناہید آفریدی اور حلقہ پی کے-108 (کرم) سے جماعت اسلامی کی ملاسا امیدوار ہیں۔

مزید پڑھیں: قبائلی اضلاع اور انتخابات

20 جولائی کو ہونے والے ان انتخابات میں 28 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جس میں مردوں کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار ہے۔

قبائی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے ان انتخابات کے لیے ایک ہزار 896 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں سے 482 مردوں کے جبکہ 376 پولنگ اسٹیشنز خواتین کے ہیں۔

اس سلسلے میں جہاں الیکشن انجینئرنگ عروج پر ہے وہیں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں انتظامیہ کی جانب سے عوامی مقامات پر اجتماعات پر پابندی کے سبب صورتحال مخلتف رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی اضلاع میں دفعہ 144 کا نفاذ ختم

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چند روز قبل ہی اس معاملے کا نوٹس لیا تھا جس کے بعد انتظامیہ نے دونوں اضلاع سے کرمنل پروسیجر ایکٹ کی دفعہ 144 کا نفاذ معطل کردیا تھا۔