محسن عباس کا بیوی پر مبینہ تشدد، عینی گواہ سامنے آگئے

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2019

ای میل

2 اداکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سب سے آگاہ تھے — فائل فوٹو/ اسکرین شاٹ
2 اداکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سب سے آگاہ تھے — فائل فوٹو/ اسکرین شاٹ

پاکستانی اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے شوہر پر تشدد کرنے کا الزام لگانے کے بعد ادکاروں نے محسن عباس حیدر پر تنقید کی ہے اور 2 اداکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سب سے آگاہ تھے۔

اداکارہ دعا ملک نے محسن عباس حیدر اور ان کی اہلیہ کے درمیان تنازع سے متعلق کہا کہ ’ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ میں اس انڈسٹری میں واحد عینی شاہد ہوں، میں نے یہ آگ 3 سال سے اپنے دل میں چھپا کر رکھی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ میں نے انہیں ( محسن عباس) کو روڈ پر اپنی اہلیہ کو مارتے ہوئے دیکھاہے، میں اسے اتنا زیادہ ہراساں کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ فاطمہ نے سالوں اپنے گھر والوں اور دوستوں سے بات نہیں کی‘۔

مزید پڑھیں: محسن عباس حیدر کی اہلیہ کا شوہر پر تشدد کرنے اور دھوکہ دینے کا الزام

دعا ملک نے کہا کہ ’ وہ 3 سال سے صرف مجھے اپنا خوف اور ہراساں ہونے سے متعلق بتاتی رہی ہے اور میں نے انہیں ہمیشہ ہمت پکڑنے اور آواز اٹھانے کا کہا ‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں چپ رہی کیونکہ فاطمہ نے کہا کہ وہ دعا کررہی ہیں کہ وہ (محسن عباس) بدل جائے گا، جب فاطمہ نے اسے ایک اداکارہ کے ساتھ لاہور میں رہتے ہوئے پکڑا تو میں نے فاطمہ کو ڈانٹا کہ انہیں اب آگے بڑھنا چاہیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'ڈپریشن کے بارے میں بات کرنے سے مجھے بہت زیادہ مدد ملی'

اداکار گوہر رشید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ میں دوسرا شخص ہوں جو فاطمہ سہیل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق آگاہ ہے، 2018 میں جب محسن عباس حیدر نے فاطمہ پر تشدد کیا تھا میری دوست اسے ہسپتال لے کر گئی تھی،مجھے اسی کے ذریعے پوری بات کا علم ہوا، فاطمہ میری بہن جیسی ہے‘۔

گوہر رشید نے کہا کہ ’وہ اپنے شادی کو بچانا چاہتی تھیں اور اپنے بچے کی صحت چاہتی تھیں اس لیے ہم نے ان کی بات کا احترام کیا اور چُپ رہے لیکن اب وہ سچ خود سامنے لے آئی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے مرد معاشرے کے لیے خطرہ ہیں، میں اسے ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہوں، فاطمہ کو انصاف کی ضرورت ہے اور اسے مدد کی‘۔

اداکارہ ہانیہ عامر نے ٹوئٹ کیا کہ ’آپ کو علم ہونا چاہیے کہ تمام تر شہرت، انتھک محنت ، کام سے لگن اور پوری پوری رات شوٹنگ کی کوئی اوقات نہیں جب آپ گندگی کا ڈھیر ہوں‘۔

اداکار ہارون شاہد نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے والد بہت پریشان ہوگئے تھے جب انہوں نے میری والدہ کو روتے دیکھا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ہمارا ایک پڑوسی اپنی اہلیہ کو مارتا تھا، وہ اسی روز اس شخص کے گھر گئے اور اسے اس کی جگہ پہنچادیا، محسن عباس حیدر تمہیں شرم آنی چاہیے‘۔

اداکار شان شاہد نے ٹوئٹ کیا ’ اصل مرد خواتین کو مارتے یا ان کی بے عزتی نہیں کرتے، جو ایسا کرتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں، ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنا چاہیے اور انہیں ویسی ہی سزا ملنی چاہیے‘۔

منشا پاشا نے ٹوئٹ میں مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ خواتین کو مارنے سے پہلے ذرا سا سوچیں تو تو ایسا نہیں کریں، اس کا کوئی بہانہ، کوئی ایسی چیز نہیں جو اسے کسی بھی طرح صحیح قرار دے، ہم جیسا دکھائی دیتے ہیں اس سے زیادہ مضبوط ہیں اور ہم لڑیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ خاموشی نہ ہے، نہ تھا اور نہ ہی کبھی ایک آپشن ہوگا‘۔

مزید پڑھیں: ’ڈپریشن جلد میری جان لے لے گا‘

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے فاطمہ سہیل کے انکشافات کا نوٹس لیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ : ’ فاطمہ کو دیگر کئی خواتین کی طرح مدد کی ضرورت ہے، میں اسلام آباد میں موجود ہوں، کئی قانون ساز گھریلو تشدد کے خلاف ہیں، ہم نے اس کے خلاف قانون سازی کے لیے سالوں کام کیا ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فاطمہ سہیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے اپنے شوہر محسن عباس حیدر پر مار پیٹ کرنے اور شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی اور سے افیئر چلانے کا الزام عائد کیا۔

خیال رہے کہ محسن عباس کی شادی فاطمہ سہیل سے 2015 میں ہوئی تھی۔

2016 میں محسن عباس حیدر کی اپنی اہلیہ سے علحیدگی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم اداکار نے خاموشی اختیار کی جبکہ بعدازاں ان خبروں کو بے بنیاد کہا گیا۔

دوسری جانب محسن عباس نے اپنے اوپر لگے الزامات کا براہ راست کوئی جواب نہیں دیا ہے، ویب سائٹ Oyeyeah کے مطابق انہوں نے اپنی اہلیہ کے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

محسن عباس کا کہنا ہے کہ ’وہ اس بات کا کافی دنوں سے انتظار کررہے تھے، اب وہ مکمل شواہد کے ساتھ عوام کے سامنے پورے معاملے کی حقیقت رکھیں گے‘۔