کیا نشر ہوگا، کیا چھپے گا؟ یہ ہم بتائیں گے!

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2019

ای میل

کپڑے دھونے والے پاؤڈر کے ایک برانڈ نے اپنی تشہیری مہم کا نعرہ یہ بنایا کہ ’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘ اور اس نعرے نے اس واشنگ پاؤڈر کو خوب مقبولیت بھی بخشی۔

ماہرین کے مطابق اس کامیابی کا راز صاف ستھرائی کے حوالے سے پیش کردہ نعرے کے منفرد خیال میں چھپا ہے۔ جہاں دیگر حریف واشنگ پاؤڈر کمپنیاں صاف ستھرا رہنے کی اہمیت کو اپنی تشہیر میں استعمال کرتی ہیں وہیں اس کمپنی نے داغ تو اچھے ہوتے ہیں کا تصور دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ داغ دھبوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان سے باآسانی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔

تاہم سیاست میں دھبوں سے جان چھڑانا اتنا اسان نہیں جتنا واشنگ پاؤڈر کے اشتہارات میں نظر آتا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ ان کی جماعت پر ایک کے بعد دوسرا داغ لگتا جا رہا ہے، اور ان کی ساکھ کو آخری بار داغ اس وقت لگا جب انہوں نے پریس کی آزادی کے حوالے سے چند فیصلے کیے، یہ ایسا داغ ہے جو ایک مدت تک دھونے سے نہیں دھلے گا۔

یہ معاملہ اب بڑھ کر شرمساری کا باعث بننے والا سوال بن چکا ہے جس کے جوابات دینا حکومت کے بس میں نہیں، خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر تو بالکل بھی نہیں۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو میڈیا سے متعلق موضوع پر منعقدہ کانفرنس کے دوران ایسے ہی ایک سوال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری طرف جب عمران خان امریکی دورے پر تھے تب ان سے ایک سے زائد بار اس حوالے سے سوالات پوچھے گئے۔ ان سوالوں کی وجہ سے عمران خان کی ایک دو راتیں تو ضرور بے چینی سے کروٹ بدلتے گزری ہوں گی کیونکہ ان کا یہ وہ واحد جواب ہے جس سے وہ متعدد مشاہدہ کار بھی مطمئن نظر نہیں آتے جو ان کے دورہ واشنگٹن کے معترف ہیں۔

آخر پریس کی آزادی اتنا بڑا مسئلہ کیوں بن چکی ہے؟

خطرات کا گھیراؤ تنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جس کا اندازہ ٹاک شوز کے دوران آوازوں کو ’میوٹ‘ (آواز بند) کیے جانے سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ مسئلہ اس وقت سنگین ہوا جب آصف علی زرداری اور مریم نواز کے انٹرویوز کو نشر ہونے کے چند منٹوں بعد ہی بند کردیا گیا۔ بعدازاں یہ خبر آئی کہ مریم نواز کے بیانات کو ٹی وی پر براہِ راست دکھانا قانون کے منافی ہے اور حکومت یہاں مجرم دکھائی دی۔

اس پورے معاملے میں یہ بھی خوب اندازہ ہوا کہ حکمراں جماعت اور کابینہ میں چند ایسی آوازیں موجود ہیں جو میڈیا کے حوالے سے حکومتی رویے پر پریشان ہیں۔ خاص طور پر وہ آوازیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر صحافیوں سے ہم کلام ہوتی ہیں اور جنہیں بار بار انہی سوالات کا سامنا کرنا پڑا جن سوالوں کا سامنا عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے اپنے غیر ملکی دوروں پر کیا۔ اور عمران خان کی امریکا سے واپسی کے بعد کابینہ اجلاس اور پارٹی کے دیگر داخلی فورمز پر بھی اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔

ایک سے زائد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والوں نے اب انہیں یقین دلانے کی کوششیں کی ہیں جو یہ دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان اپنی میڈیا حکمت عملی پر دوبارہ سوچنے پر قائل ہوچکے ہیں (تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور پابندیوں کو کس طرح ختم کیا جائے گا۔) لیکن شکوک و شبہات کی گنجائش اب بھی موجود ہے کیونکہ معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں ہے جتنا پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والوں یا پھر پی ٹی آئی کے ان حامیوں کو لگتا ہے جو یہ وعدہ کر رہے ہیں کہ ایک اور یوٹرن آنے کو ہے۔

پہلی بات، میڈیا پر بندشوں کی ابتدا نئی نہیں ہے، بلکہ یہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے اور پختون مہم یا عام انتخابات کے دنوں سے بھی پرانی ہے۔ اس نوعیت کی پہلی (ناکام) کوشش جنرل مشرف نے 2007ء میں کی لیکن اس میں بھی بے ضبط پریس کی قبولیت پر ریاست کی بے چینی کے آثار نمایاں تھے۔ اور پھر ہم نے جلد ہی اس ناکام شخص کو قصہ پارینہ بنا دیا۔ مگر اس وقت سے لے کر اب تک میڈیا پر بندشوں کے پہلے سے بہتر طریقہ کار لائے جاتے رہے اور منظرنامے پر موجود زیادہ تر سیاسی کھلاڑیوں نے ان طریقہ کاروں کو بہتر سے بہتر بنانے کی پوری پوری کوشش کی۔

اب یہ بتانا تو مشکل ہے کہ کس تاریخ کو میڈیا پر قدغن لگائی گئی کیونکہ اس نوعیت کے ابتدائی اقدامات کی مخالفت نہیں کی گئی تھی بلکہ ان کی زبردست انداز میں حمایت کی گئی۔ نتیجتاً ایک آدھ افراد نے تاریخ میں قائم ہوتی مثال پر توجہ مبذول کی۔

کیا اس کی ابتدا الطاف حسین پر پابندی عائد ہونے کے بعد ہوئی یا پھر تمام چینلوں کی جانب سے ان کی تقاریر براہِ راست نشر کرنے کے بعد؟ یا پھر جب پیمرا نے ’ریگولیٹری‘ اقدام کے نام پر چینلوں کی نشریات بند کرنا شروع کردی تھیں؟

2014ء میں ایسا جیو اور اے آر وائے دونوں کے ساتھ الطاف حسین پر پابندی عائد کیے جانے کے عدالتی حکم آنے سے ایک سال قبل ہوا تھا۔ تب سے لے کر اب تک حالات بگاڑ کی طرف مائل رہے ہیں، اور جب ایک دوسرے چینل کی نشریات عبوری طور پر بند کرنے کی خبر سامنے آئی تو کسی ایک فرد (حتیٰ کہ صحافیوں) کو ذرا سا بھی حیرت کا جھٹکا نہیں لگا۔ ایک ’نئی رسم‘ وجود میں آچکی تھی، اور یہ سب مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ہوا تھا، اور ہاں قومی اسمبلی میں سائبر کرائم قوانین کا بل جب منظور ہوا تب بھی مسلم لیگ (ن) برسرِاقتدار تھی۔

ایک طرف پیمرا ایڈوائزریوں کے ذریعے اپنی ریگولیٹری کا کام جاری رکھے ہوئے ہے دوسری طرف ہدایات کا آنا معمول بن چکا ہے۔ (اب ضمیر نیازی جیسا کوئی شخص کہاں جو خاموشی سے روزانہ موصول ہونے والی ہدایات کو ریکارڈ کرے۔)

جو بات اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے وہ یہ سوال ہے کہ ایک سے دوسرے کے ہاتھ میں پہنچنے والے ان فیصلوں کے پیچھے آخر کون ہے؟

اس حوالے سے پی ٹی آئی بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنی ہے، اور اس کی وجہ اپنے بیانات اور رویے ہیں۔ مثلاً کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی سے وابستہ چند افراد ’سزا یافتہ‘ سیاسی رہنماؤں کی کوریج پر پابندی کو درست قرار دیتے نظر آئے تھے۔ مگر یہ بات بھی ایک الزام پر آ کر ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جس طرح یہ جماعت آج برسرِاقتدار ہے اسی طرح کل جب مسلم لیگ (ن) حکمراں جماعت تھی ان دنوں چینلوں کی بندش قابلِ قبول طریقہ بن چکا تھا ٹھیک جس طرح پھر نیوز چینلوں کو بند کرنا عام ہوگیا۔

(ان بندشوں کا ایک نتیجہ یہ رہا ہے کہ پریس نے خودشناسی کا عمل ترک کردیا ہے، جو ایک بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔ خیر اسے پھر کبھی موضوعِ بحث بنائیں گے۔ مگر اب یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے سے متعلق ہونے والے کسی بھی مباحثے میں ہمارے اداریاتی معیارات پر بحث شامل ہو اور ساتھ ہی ساتھ ان وجوہات کو بھی موضوعِ بحث بنایا جائے جن کی بدولت پابندیوں کا نفاذ اس قدر سہل بن جاتا ہے۔)

مگر پی ٹی آئی کو اپنی ناتجربے کاری کے باعث اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ آزاد پریس کی مخالف جماعت کے طور پر اس نے جو داغ اپنے اوپر لگایا ہے اسے دھونا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنی آسانی سے اشتہارات میں کپڑے دھونے والا پاؤڈر دھو دیتا ہے، بلکہ یہ داغ ایک طویل عرصے تک ساتھ ساتھ رہے گا حتیٰ کہ جب یہ پارٹی اپنی غلطی پر پشیمان ہوگی اس کے بعد بھی یہ داغ جڑا ہی رہے گا۔

مسلم لیگ (ن) اپنے اوپر لگے سپریم کورٹ پر دھاوا بولنے کے داغ سے ابھی تک چھٹکارہ نہیں پاسکی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی ان دنوں صادق سنجرانی اور اس سے منہ پھیر لینے کے اپنے فیصلوں پر وضاحت دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔

اسی طرح پریس کی آزادی پی ٹی آئی کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔ بلاشبہ، احتسابی مہم سے زیادہ یہ وہ داغ ثابت ہوگا جسے دھونے میں پارٹی کو دن رات ایک کرنے پڑجائیں گے۔

حزبِ اختلاف کے ساتھ سخت گیر سلوک کے باوجود کرپشن ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ملک کے اندر اور باہر ایک حد تک شور مچتا ہے اور مغرب جو اس قسم کے الزامات پر ہمیشہ سے بے چین رہتا آیا ہے، وہاں بھی اس کے ایک آدھ تنقید کرنے والے ملیں گے۔ تاہم پریس پر پابندیاں اس طرح آسانی کے ساتھ قابلِ قبول قرار نہیں پاتیں۔ دورہ امریکا اس کی روشن مثال ہے۔

کیا پی ٹی آئی اس کے لیے تیار ہے؟


یہ مضمون 30 جولائی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔