چیئرمین سینیٹ کی وزیر اعظم اور جہانگیر ترین سے الگ الگ ملاقات

ای میل

وزیراعظم سے چیئرمین سینیٹ کی ملاقات میں دیگر اراکین بھی موجود تھے—فوٹو: حکومت پاکستان
وزیراعظم سے چیئرمین سینیٹ کی ملاقات میں دیگر اراکین بھی موجود تھے—فوٹو: حکومت پاکستان

وزیر اعظم عمران خان سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب گزشتہ روز ایوان بالا کے چیئرمین کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی تھی۔

وزیراعظم آفس میں ہوانے والی اس ملاقات میں سینیٹ میں قائد ایوان سید شبلی فراز، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف بھی موجود تھے۔

ملاقات میں وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ سینیٹ کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تبدیلی کی تحاریک ناکام

عمران خان نے صادق سنجرانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قیادت پر سینیٹ اراکین کا بھرپور اعتماد آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور ایوان کی کارروائی کو احسن طریقے سے چلائے جانے کی تصدیق ہے۔

ایوان کو غیرجانبداری سے چلاتا رہوں گا، صادق سنجرانی

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین سے بھی ملاقات کی۔ یہ ملاقات چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہ پر ہوئی جہاں جہانگیر ترین نے چیئرمین سینیٹ کو مبارک باد دی۔

جہانگیر ترین نے چیئرمین سینیٹ کو  ایوان کا اعتماد حاصل کرنے پر مبارکباد دی—فوٹو: نادر گرمانی
جہانگیر ترین نے چیئرمین سینیٹ کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے پر مبارکباد دی—فوٹو: نادر گرمانی

اس ملاقات میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رکن اسمبلی علی گوہر مہر، صحافی حامد میر سمیت دیگر لوگ موجود تھے۔

ملاقات میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومتی حمایت پر شکریہ ادار کیا جبکہ جہانگری ترین نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی سے ثابت ہو گیا آپ کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ حکومت ایوان بالا میں چئیر مین سینیٹ کی حمایت جاری رکھے گی کیونکہ حکومت اداروں کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے، عدم اعتماد کی تحریک پر شکست اپوزیشن کے سیاسی فیصلوں کی شکست ہے۔

اس دوران چیئرمین سینیٹرز کے اعتماد پر سب کا شکر گزار ہوں، آئندہ بھی ایوان کو غیرجانبداری سے چلاؤں گا۔

تحریک عدم اعتماد پر کیا ہوا؟

خیال رہے کہ یکم اگست کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جبکہ حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک پر خفیہ رائے شماری کی گئی تھی۔

سینیٹ میں جماعتوں کی نمائندگی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ایوان میں 30 اراکین کے ساتھ اکثریت موجود تھی جبکہ پی پی پی 20 اور پی ٹی آئی 17 اراکین کے ساتھ بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن پر ہیں، جس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے 11، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے 6، نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے 5، 5 پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے پاس ایک، ایک رکن ہے، اس کے علاوہ 5 اراکین آزاد حیثیت میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک عدم اعتماد: مبینہ دھاندلی کی ویڈیو پر بیرسٹر سیف کی وضاحت

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے راجا ظفر الحق نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پیش پر 64 اپوزیشن اراکین نے کھڑے ہوکر حمایت ظاہر کی تھی۔

تاہم جب خفیہ رائے شماری کے بعد نتائج آئے تو چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر محض 50 ووٹ آئے تھے جبکہ اس کی مخالفت میں 45 ووٹ ڈالے گئے تھے اور 5 ووٹ مسترد ہوگئے تھے، لہٰذا یہ تحریک مطلوبہ 53 ووٹ لینے میں ناکام ہونے پر مسترد ہوگئی تھی۔

اس پورے عمل میں 100 اراکین نے حصہ لیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری تنویر ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ایوان میں حاضری یقینی نہ بناسکے، اس کے علاوہ جماعت اسلامی کی جانب سے ووٹنگ کے عمل پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کے 2 سینیٹرز بھی ایوان میں نہیں آئے تھے۔

ساتھ ہی حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد بھی ناکام ہوگئی تھی اور وہ بھی مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں کرسکی تھی۔