مقبوضہ کشمیر میں 500 سے زائد حریت رہنما و کارکنان گرفتار

اپ ڈیٹ 08 اگست 2019

ای میل

لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد قابض فورسز کے آپریشن کے دوران اب تک 5 سو سے زائد حریت رہنما اور کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق تقریباً تمام حریت رہنما بشمول آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین اور بزرگ سیاست دان سید علی گیلانی اور حریت فورم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کو نظر بند یا جیل میں قید کر دیا گیا ہے۔

اس بارے میں موصول تازہ اطلاعات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ مقبوضہ وادی میں سری نگر، بارامولا، گریز اور دیگر اضلاع میں 5 سو 60 کارکنان کو جیلوں میں قید کردیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بھی بنادیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو بھی نظر بند کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان، سفیر کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، بھارت کی اپیل

اس کے ساتھ ساتھ سری نگر کے قریبی علاقے ساؤرا میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ 4 روز سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے گلیاں اور چوراہے ویران ہیں جبکہ قابض فوج کا جگہ جگہ گشت جاری ہے۔

لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ علاقے میں تمام مواصلاتی نظام بشمول موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہے۔

کارگل میں حکومت مخلاف مظاہرے جاری تھے کہ پورے لداخ میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی، تاہم لوگ اس کے باوجود گھروں سے باہر نکل کر آئے اور حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی معلومات تک رسائی نہ ہونا تشویشناک ہے، اقوام متحدہ

یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا جس پر بھارتی صدر راج ناتھ کوند نے دستخط بھی کر دیے تھے۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور وادی میں کرفیو کے نفاذ سمیت بھارتی حکومت کے دیگر اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔