پاکستان، سفیر کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، بھارت کی اپیل

اپ ڈیٹ 08 اگست 2019

ای میل

بھارت نے کشمیر پر حالیہ فیصلے کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے دیا — فائل فوٹو: ٹوئٹر
بھارت نے کشمیر پر حالیہ فیصلے کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے دیا — فائل فوٹو: ٹوئٹر

بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے رد عمل میں اس کے سفیر کو ملک چھوڑنے کے فیصلے پر پاکستان سے نظر ثانی کی اپیل کردی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ پر شائع رپورٹس کے مطابق بھارتی دفتر خارجہ کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے پر نظر ثانی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے دنیا کو پیغام جائے گا کہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات انتہائی نازک حالات سے دوچار ہیں۔‘

بھارتی دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ ہمیشہ خودمختار معاملہ ہی رہے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارت کے ساتھ تجارت معطل، سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

بھارت کی جانب سے جواز پیش کیا گیا کہ اس آرٹیکل کی منسوخی کے بعد جموں اور کشمیر کے عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ پاک بھارت دوطرفہ تعلقات میں اسلام آباد نے یکطرفہ فیصلہ لیا ہے‘۔

بھارت کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ہمارے لیے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا یہ اقدام حیران کن نہیں ہے‘۔

وزارت داخلہ سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا کہ نئی دہلی کو اسلام آباد کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر افسوس ہوا تاہم پاکستان اس پر نظر ثانی کرے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی معلومات تک رسائی نہ ہونا تشویشناک ہے، اقوام متحدہ

یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا جس پر بھارتی صدر راج ناتھ کوند نے دستخط بھی کر دیے تھے۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور وادی میں کرفیو کے نفاذ سمیت بھارتی حکومت کے دیگر اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔