یمن: سعودی اتحاد میں دراڑ، حکومت کا علیحدگی پسندوں سے مذاکرات سے انکار

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

ایس ٹی سی نے عدن بندرگاہ پر قبضہ کرلیا تھا—فوٹو:اے ایف پی
ایس ٹی سی نے عدن بندرگاہ پر قبضہ کرلیا تھا—فوٹو:اے ایف پی

سعودی حمایت یافتہ یمن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک جنوبی علاقوں میں موجود علیحدگی پسند عدن پورٹ کا قبضہ چھوڑ کر اپنی پوزیشن پر واپس نہیں جاتے اس وقت تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب علیحدگی پسندوں کے سربراہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یمن میں فوجی اتحاد کے سربراہ سعودی عرب نے 10 اگست کو جنوبی فورسز کی جانب سے عدن پورٹ کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد مذاکرات کے لیے ایک اجلاس بلایا تھا لیکن اس اقدام نے اتحاد میں دراڑ ڈال دی ہے۔

ادھر ایک اور اتحادی متحدہ عرب امارات اور یمنی حکومت کے درمیان بھی ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ ہوا۔

یمنی حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘جنوبی ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) سے اس وقت تک ہم کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے جب تک وہ قبضے میں لیے گئے علاقوں کو نہیں چھوڑ دیتے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلحہ کو واپس کرتے ہوئے حکومتی فورسز کو واپس آنے کی اجازت نہیں دے دیتے’۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے تیل کے پلانٹ پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ

قبل ازیں ایس ٹی سی نے اسی طرح کے مطالبات کو ماننے سے انکار کردیا تھا اور ابیان کے قریب میں فوجی کیمپس پر قبضہ کرتے ہوئے زیر قبضہ علاقوں میں بھی توسیع دی تھی۔

دوسری جانب ایس ٹی سی کے رہنما عیدروس الزبیدی مذاکرات کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے۔

خیال رہے کہ ایس ٹی سی اور یمنی حکومت دونوں 2015 میں اتحادی تھے اور حوثی باغیوں کے خلاف متحد ہوکر لڑ رہے تھے جبکہ حوثی باغیوں نے 2014 میں صدر منصور ہادی کی حکومت کو گرادیا تھا۔

صدر منصور ہادی اپنی حکومت کا مرکز حوثی باغیوں کے حملے کے بعد عدن منتقل کردیا تھا جبکہ وہ خود سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے حمایت علیحدگی پسندوں، جو صدر منصور ہادی پر بدانتظامی کا الزام لگاتے ہیں، کا مطالبہ ہے کہ یمن کے جنوبی علاقوں میں خود مختار حکومت کی اجازت دی جائے۔

مزید پڑھیں:فورسز میں کمی کے فیصلے کے باوجود امارات کا یمن نہ چھوڑنے کا اعلان

یاد رہے کہ یمن کے عدن پورٹ پر ایس ٹی سی نے حکومت کی متعدد عمارتوں، ایک فوجی کیمپ اور مشرقی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا تھا تاہم بعد ازاں عمارتوں سے دست برداری کا بیان جاری کیا گیا تھا۔

یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فورسز کے جنوبی علاقے میں واقع ہسپتال اور کیبنیٹ سیکریٹریٹ سے واپسی کی گئی ہے اور انہیں وزارت داخلہ اور عدن کی ریفائنری دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجیوں کی تعداد کم کردی تھی اور تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی جبکہ صدر ہادی اور ان کی حکومت کا موقف ہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں ڈالتے اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔