مودی سرکار کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی تیاریوں میں ہے، عمران خان

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

عمران خان نے نریندر مودی کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کی ہدایت کی—فوٹو: عمران خان فیس بک پیج
عمران خان نے نریندر مودی کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کی ہدایت کی—فوٹو: عمران خان فیس بک پیج

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی سرکار کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی تیاریوں میں ہے لیکن وہ بطور سفیر مقبوضہ کمشیر کے عوام کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں بتایا گیا کہ پارٹی کے سیکریٹری او آئی سی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے عمران خان سے ملاقات کی۔

اس دوران وزیراعظم نے کہا کہ مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روندتے ہوئے کشمیریوں کو ظلم ستم کا نشانہ بنانے کی تیاریوں میں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا بطور سفیر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز دنیا کے ہر فورم پر اٹھاؤں گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا فیصلہ

دوسری جانب اعلامیے میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی حکومت کے قبضے، اہل کشمیر پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو عالمی سطح پر شدید رد عمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق نریندر مودی کی امریکا آمد کے موقع پر شدید احتجاج کیا جائے گا، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی تنظیم برائے بین الاقوامی شعبہ جات کو بھرپور تیاریوں کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

ساتھ ہی یہ ہدایات بھی کی گئیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف کمیونٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے گئے تھے۔

بعد ازاں 7 اگست کو بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں) میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے ’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019‘ بھاری رائے شماری سے منظور کرلیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کونسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 16 روز سے کرفیو نافذ کرکے دیگر پابندیاں بھی عائد کیں جبکہ بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد نے وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔

ادھر گزشتہ دنوں کشمیر کے مقامی مجسٹریٹ نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں 'اے ایف پی' اور 'اے پی' کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کم از کم 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے، آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔

پاکستان کے اقدامات

دوسری جانب پاکستان نے 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر مسترد کیا تھا۔

بعدازاں 7 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے تحت پاکستان میں 73واں یومِ آزادی، یومِ ٰیکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر، پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ

علاوہ ازیں 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی پر ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا تھا، اس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا تھا اور بھارت مخالف احتجاج اور مظاہرے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط لکھ کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ اجلاس بلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کی جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی خط سلامتی کونسل کی صدر تک پہنچایا تھا۔

بعدازاں 16 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 50 سال میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر غور کے لیے تاریخی مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بند کمرے میں ہوا تھا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی تھی اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔