پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری کی تصدیق کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری کی تصدیق کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کے فیصلے کی اصولی منظوری دی گئی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور وزارت قانون کو عالمی شہرت یافتہ وکلا کا پینل تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا تاریخی اجلاس

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں یہ معاملہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر کا معاملے کو عالمی عدالت لے جانے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ عالمی عدالت انصاف جانے کا فیصلہ تمام قانونی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد لیا گیا‘۔

خیال رہے کہ عالمی عدالت کا فیصلہ صرف مشاورتی ہوگا، تاہم اگر دونوں ممالک پہلے سے عدالت کے فیصلے پر اتفاق کرتے ہیں تو وہ اس فیصلے کے پابند ہوں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے گئے تھے۔

بعد ازاں 7 اگست کو بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں) سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے ’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019‘ بھاری رائے شماری سے منظور کرلیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کونسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 16 روز سے کرفیو جاری ہے اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد نے وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔

ادھر گزشتہ دنوں کشمیر کے مقامی مجسٹریٹ نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں 'اے ایف پی' اور 'اے پی' کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کم از کم 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔

پاکستان کے اقدامات

دوسری جانب پاکستان نے 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر مسترد کیا تھا۔

بعدازاں 7 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے تحت پاکستان میں 73واں یومِ آزادی، یومِ ٰیکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت کا یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر، پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ

علاوہ ازیں 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی پر ملک بھر یوم سیاہ منایا گیا تھا، اس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا تھا اور بھارت مخالف احتجاج اور مظاہرے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط لکھ کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ اجلاس بلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کی جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی خط سلامتی کونسل کی صدر تک پہنچایا تھا۔

بعدازاں 16 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 50 سال میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر غور کے لیے تاریخی مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بند کمرہ اجلاس تھا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی تھی اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔