پولیس کو دھمکیاں دینے پر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

ایف آئی آر کے مطابق محمد صفدر نے ایک پولیس اہلکار سے لاٹھی بھی چھینی اور ان پر اس سے حملہ کرنے کی کوشش کی — فائل فوٹو / ڈان نیوز
ایف آئی آر کے مطابق محمد صفدر نے ایک پولیس اہلکار سے لاٹھی بھی چھینی اور ان پر اس سے حملہ کرنے کی کوشش کی — فائل فوٹو / ڈان نیوز

لاہور پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر اور 14 پارٹی کارکنان کے خلاف پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مریم نواز اور حمزہ شہباز کی عدالت پیشی کے موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 14 لیگی کارکنان نے پولیس اہلکاروں کے کام میں مداخلت کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔

مقدمے میں کہا گیا کہ محمد صفدر نے ایک پولیس اہلکار سے لاٹھی بھی چھینی اور ان پر اس سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔

ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 186، 147، 149 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے اسی معاملے پر پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک نے کہا کہ 'کشمیر فروخت کرنے والے' حکمران اپنی ناانصافیوں کے خلاف عوام کی آواز نہیں دبا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کی عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے لیگی کارکنان پر تشدد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 'فسطائی' حکومت لیگی کارکنان کو اپنے رہنماؤں سے اظہار یکجہتی کرنے سے نہیں روک سکتی۔

پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت آمریت ہے کیونکہ اپوزیشن کی آواز دبائی جارہی ہے اور میڈیا سینسرشپ کی زد میں ہے۔


یہ خبر 23 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔