پولیس حراست میں اے ٹی ایم کارڈ چور کی ہلاکت، مقدمے میں ایس ایچ او نامزد

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2019

ای میل

صلاح الدین کے والد نے کہا کہ بیٹے کے قتل پر انصاف کے طلب گار ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ
صلاح الدین کے والد نے کہا کہ بیٹے کے قتل پر انصاف کے طلب گار ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ

رحیم یار خان سٹی اے ڈویژن پولیس نے دورانِ حراست ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد کی درخواست پر اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمود الحسن، تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفاعت علی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) مطلوب حسن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔

آٹومیٹک ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) میں چوری کے دوران 'عجیب حرکتیں' کرکے سوشل میڈیا پر مشہور ہونے اور بعد ازاں دوران حراست ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد محمد افضال نے سپرنٹنڈنٹ پولیس انویسٹی گیشن کو ایس ایچ او، ایس آئی اور اے ایس آئی کے خلاف درخواست جمع کروائی تھی۔

درخواست میں محمد افضال نے کہا کہ ان کا بیٹا صلاح الدین ذہنی طور پر معذور تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے اس کے بازو پر نام اور ایڈریس کندہ کروایا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یکم ستمبر 2019 کو انہیں معلوم ہوا ان کا بیٹا صلاح الدین پولیس حراست میں ہلاک ہوگیا اور جب انہوں نے ضلع رحیم یار خان تھانہ سٹی ڈویژن اے رابطہ کیا تو اس حوالے سے کوئی معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔

مزید پڑھیں: 'پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت' کا ایک اور واقعہ

درخواست میں کہا گیا کہ بعدازاں وہ اپنے بھتیجوں محمد نواز اور ہارون امتیاز کے ہمراہ رحیم یار خان آئے جہاں پہنچ کر انہیں علم ہوا کہ سٹی اے ڈویژن پولیس نے صلاح الدین کو چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔

صلاح الدین کے والد نے درخواست میں کہا کہ ایس ایچ او محمود الحسن، ایس آئی شفاعت علی اور اے ایس آئی مطلوب حسین نے تفتیش کے دوران تشدد کرکے ان کے بیٹے کو قتل کردیا تھا اور گھر والوں کو اطلاع دیے بغیر اس کا پوسٹ مارٹم کروادیا۔

مذکورہ درخواست پر سٹی اے ڈویژن پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد افضال نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو پہلے بھی 3 مرتبہ گرفتار کرکے راولپنڈی اور فیصل آباد کی جیلوں میں بھیجا گیا تھا لیکن ہمیشہ معذوری کے باعث ہمیشہ رہا کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے صلاح الدین کو ناحق قتل کیا اور وہ اب اپنے بیٹے کے قتل پر انصاف کے طلب گار ہیں۔

محمد افضال کے وکیل اسامہ خالد گھمن نے بتایا کہ انہیں امید ہے نامزد ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا اور صلاح الدین کو انصاف ملے گا۔

علاوہ ازیں شیخ زید میڈیکل کالج کے ترجمان رانا الیاس احمد نے ڈان کو بتایا کہ صلاح الدین کے مختلف اعضا کے نمونے لاہور میں قائم پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوائے گئے ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ ایک مہینے تک مکمل کی جائے گی۔

ترجمان نے صلاج الدین کی لاش لواحقین کے حوالے سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم چوری میں ملوث شخص پولیس حراست میں ہلاک

واضح رہے کہ گزشتہ روز آٹومیٹک ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) میں چوری کے دوران 'عجیب حرکتیں' کرکے سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والا شخص پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگیا تھا۔

ضلعی پولیس کے ترجمان ذیشان رندھاوا نے واٹس ایپ کے ذریعے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوران حراست صلاح الدین کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی اور وہ ہسپتال لے جاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ اے ٹی ایم چوری میں ملوث شخص حراست کے دوران پاگلوں والی حرکتیں کر رہا تھا، اس کی حالت بگڑ جانے پر اسے شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی لاش کو قانونی چارہ جوئی کے بعد سرد خانے میں منتقل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ملزم کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہوگی۔