خیبرپختونخوا میں رواں ماہ پولیو کا دوسرا کیس سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2019

ای میل

ملک میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 60 ہوگئی—فائل/فوٹو:اے پی
ملک میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 60 ہوگئی—فائل/فوٹو:اے پی

خیبرپختونخوا (کے پی) کا قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا جو صوبے میں رواں سامنے آنے والا دوسرا کیس ہے اور 2019 میں اب پولیس کیسز کی تعداد 46 ہوگئی۔

خیبر پختونخوا کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پولیو کا نیا کیس قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے گاؤں چالائیرے میں سامنے آیا ہے۔

ای او سی عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پولیو سے متاثرہ بچے کی عمر 10 ماہ ہے اور متاثرہ بچے کو حفاظتی قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال میں خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد46 ہوگئی ہے اور صوبے میں پولیو کیسز کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو قطرے پلانے سے انکار ہے۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 45 ہوگئی

بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے اس لیے والدین کسی قسم کے منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔

یاد رہے کہ 4 ستمبر کو ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ سے ایک اور پولیو کیس سامنے آگیا تھا اس سے قبل 26 اگست کو بھی صوبے میں تین کیسز سامنے آگئے تھے۔

گزشتہ ماہ سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا ملک بھر میں پولیو کے 5 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں کے پی میں 3 اور سندھ میں 2 کیسز شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک میں رواں سال سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 58 ہوگئی جو گزشتہ سال کے 12 کیسز کے مقابلے میں 383.33 فیصد زیادہ ہے اور اب یہ تعداد 61 ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں رواں برس سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 46 ہوگئی ہے اس کے علاوہ دیگر صوبوں میں سندھ اور پنجاب میں 5،5 کیسز اور بلوچستان میں پولیو 4 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا، سندھ میں 5 نئے پولیو کیسز سامنے آگئے

قبل ازیں ملک بھر میں 2017 میں صرف 8 اور 2018 میں صرف 12 پولیو کیسز سامنے آئے تھے۔

خیال رہے کہ پولیو وائرس نہایت خطرناک وائرس ہے جو 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔

پولیو وائرس دماغ پر حملہ کرتے ہوئے جسم کو کام کرنے سے روکتا ہے جس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

پولیو کا کوئی علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس کی ویکسین ہی بچوں کو اس مرض سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے، جب بھی 5 سال سے کم عمر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو اس وائرس سے تحفظ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔